Bharat Express DD Free Dish

Farmers

راجیہ سبھا میں منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے حکومت کی تیاری کا خاکہ پیش کیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کسانوں اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے بڑے فلاحی اعلانات کرتے ہوئے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ ممتا بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں ایک کٹّھا زمین کے مالک کسانوں کو سالانہ 4000 روپے دیے جائیں گے۔ دسویں جماعت پاس بے روزگار نوجوانوں کو ’یوا ساتھی اسکیم‘ کے تحت ہر ماہ 1500 روپے دیے جائیں گے۔

مرکزی حکومت نے ملک میں یوریا کی قلت اور کالابازاری سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے نیا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ہر سال فصلوں کے موسم میں یوریا کی کمی، ڈیلروں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور کسانوں کے استحصال کی خبریں عام ہوتی تھیں، لیکن اب حکومت اس مسئلے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کرنے جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو بھارت کی ثقافتی اور روحانی ورثے کی نمائندگی کرنے والے خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں کشمیر کا مشہور زعفران اور بھگوت گیتا کا روسی ترجمہ شامل تھا۔ یہ تحفے نہ صرف بھارت کی فنون، روایت اور روحانیت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

کھاد اور زرعی آلات پر جی ایس ٹی میں نمایاں کمی نے ملک بھر کے کسانوں کے لیے کاشتکاری کے اخراجات کم کر دیے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کھاد و کیمیاوی کھادوں کے مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 12 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کیے گئے ٹیکس نے نہ صرف پیداواری لاگت کم کی ہے بلکہ کسانوں میں جدید اور سائنسی کھیتی کے طریقوں کو فروغ بھی دیا ہے۔

بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا شہد برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے، اور مالی سال 2023-24 میں ملک کی جانب سے 177.55 ملین ڈالر مالیت کا 1.07 لاکھ میٹرک ٹن شہد برآمد کیا گیا ہے۔

پرادھان منتری کسان سممان ندھی یوجنا (PM-Kisan) کے تحت کسانوں کو سالانہ 6,000 روپے کا فائدہ ملتا ہے۔ ملک بھر کے کسان 21ویں قسط کا انتظار کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 42 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی زرعی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، زراعت کی جدید کاری اور زرعی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے 24 ہزار کروڑ روپے کے  بجٹ کے ساتھ ’پردھان منتری دھن۔دھنیا کرشی یوجنا کا بھی باضابطہ آغا کیا۔‘

وزیرِاعظم مودی نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ بھارت آج دودھ، دال اور جوٹ کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جب کہ چاول، گندم، کپاس، پھل اور سبزیاں پیدا کرنے میں دوسرا مقام رکھتا ہے۔

نیشنل بیورو آف پلانٹ جینیٹک ریسورسز (آئی سی اے آر) کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر کے سی بنسل نے اس جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کسانوں کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور خود انحصاری کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔