Bharat Express DD Free Dish

Aligarh muslim university

طلبہ یونین محض ایک انتخابی ادارہ نہیں، بلکہ طلبہ کی آواز، ان کی قیادت، سیاسی و سماجی شعور اور جمہوری تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں، تعلیمی ماحول میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کرتے ہیں اور مستقبل کی قیادت کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ اگر انتخابات وقت پر ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف طلبہ کو نہیں بلکہ پوری یونیورسٹی کو پہنچ سکتا ہے۔اے ایم یو کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ادارے نے ملک کو سیاست، تعلیم، صحافت، قانون، انتظامیہ اور سماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں شخصیات دی ہیں۔ اس لیے طلبہ کی جمہوری سرگرمیوں کو یونیورسٹی کی علمی و تہذیبی روایت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

17 اکتوبر کو جب سرسید احمد خاں کو یاد کیا جائے تو ان کے اس چمن کے نوجوان بھی یاد رکھے جائیں۔ یہی نوجوان اس چمن کے پھول ہیں۔ یہی آنے والے وقت کے چراغ ہیں۔ یہی علی گڑھ کی پہچان کو آگے لے جانے والے ہیں۔انہیں پرواز کرنے دیجیے۔ان کی پرواز کو سمت دیجیے۔ان کے خوابوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے سے متعلق کیمپس میں جاری طلباء کے دھرنے اوربھوک ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلباء کے اس مطالبے کو فوری طورپرتسلیم کرتے ہوئے یونین کے انتخابات کرانے کی کارروائی شروع کی جائے۔

سر سید احمد خان نے ایک چراغ روشن کیا تھا۔ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسی چراغ کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے اور پروفیسر نعیمہ خاتون اس روشنی کو نئی نسل تک پہنچانے والی اہم شخصیات میں شمار کی جا رہی ہیں۔ تاریخ جب اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا ذکر کرے گی تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سفر میں پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت پل تعمیر کیا۔

اجلاس کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے شرکاء نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور ادارہ جاتی ترقی کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ پروفیسر شاہد اختر نے تعلیمی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی استحکام سے متعلق اہم تجاویز پیش کیں۔

خواجہ احمد عباس نے نہ صرف پیرالل سنیما کو نئی جہت دی بلکہ اپنی فلم ’سات ہندوستانی‘ کے ذریعے امیتابھ بچن کو فلم انڈسٹری میں پہلا موقع بھی فراہم کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی عباس صاحب امیتابھ کی شخصیت اور صلاحیتوں سے متاثر ہو گئے تھے۔

اے ایم یو کی طلبہ یونین محض ایک نمائندہ ادارہ نہیں تھی، بلکہ یہ قیادت سازی کی تجربہ گاہ تھی۔ یہاں منتخب ہونے والا صدر صرف ایک عہدہ دار نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا رہنما سمجھا جاتا تھا۔

راؤ دانش علی جلد ہی اپنے والدین کو عمرہ کرنے کے لئے  لے جانے والے تھے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کچھ خوشی کے پل گزارنے کی تیاری کر رہے تھے، لیکن یہ سانحہ پیش آیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کیمپس میں اس طرح کا حملہ ہوا ہے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے حال ہی میں سر سید ڈے کے موقع پر ’عظیم دعوت طعام‘ کے نام سے ایک تاریخی عشائیہ کا اہتمام کیا۔ جانیں سر سید ڈے کی کیا ہے اہمیت؟

ڈاکٹر ویبھا شرما نے انہی عناصر کو نصاب میں شامل کر کے طلبہ کو یہ احساس دلایا کہ تعلیم صرف مغرب کی دین نہیں بلکہ ہماری اپنی تہذیب بھی ایک بڑی درسگاہ ہے۔