Bharat Express DD Free Dish

Aligarh muslim university

سر سید احمد خان نے ایک چراغ روشن کیا تھا۔ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسی چراغ کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے اور پروفیسر نعیمہ خاتون اس روشنی کو نئی نسل تک پہنچانے والی اہم شخصیات میں شمار کی جا رہی ہیں۔ تاریخ جب اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا ذکر کرے گی تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سفر میں پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت پل تعمیر کیا۔

اجلاس کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے شرکاء نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور ادارہ جاتی ترقی کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ پروفیسر شاہد اختر نے تعلیمی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی استحکام سے متعلق اہم تجاویز پیش کیں۔

خواجہ احمد عباس نے نہ صرف پیرالل سنیما کو نئی جہت دی بلکہ اپنی فلم ’سات ہندوستانی‘ کے ذریعے امیتابھ بچن کو فلم انڈسٹری میں پہلا موقع بھی فراہم کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی عباس صاحب امیتابھ کی شخصیت اور صلاحیتوں سے متاثر ہو گئے تھے۔

اے ایم یو کی طلبہ یونین محض ایک نمائندہ ادارہ نہیں تھی، بلکہ یہ قیادت سازی کی تجربہ گاہ تھی۔ یہاں منتخب ہونے والا صدر صرف ایک عہدہ دار نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا رہنما سمجھا جاتا تھا۔

راؤ دانش علی جلد ہی اپنے والدین کو عمرہ کرنے کے لئے  لے جانے والے تھے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کچھ خوشی کے پل گزارنے کی تیاری کر رہے تھے، لیکن یہ سانحہ پیش آیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کیمپس میں اس طرح کا حملہ ہوا ہے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے حال ہی میں سر سید ڈے کے موقع پر ’عظیم دعوت طعام‘ کے نام سے ایک تاریخی عشائیہ کا اہتمام کیا۔ جانیں سر سید ڈے کی کیا ہے اہمیت؟

ڈاکٹر ویبھا شرما نے انہی عناصر کو نصاب میں شامل کر کے طلبہ کو یہ احساس دلایا کہ تعلیم صرف مغرب کی دین نہیں بلکہ ہماری اپنی تہذیب بھی ایک بڑی درسگاہ ہے۔

مرکزی وزیردھرمیندرپردھان نے جمعرات کوملک کی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کی۔ اس بار این آئی آرایف نے 16 مختلف زمروں میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں اوراداروں کی درجہ بندی کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد، جو ملک کے ممتاز اقلیتی تعلیمی اداروں میں سے ہیں، نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

علی گڑھ میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے زمین اپنے قبضے میں لے لی اور اس پر مالکانہ حق کی نشاندہی کرنے والا بورڈ بھی نصب کردیا ہے۔ اے ایم یو کے ترجمان نے زمین پر یونیورسٹی کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالت سے کا رخ کرنے کی بات کہی ہے۔

اے ایم یو کے پروفیسروں نے آرایس ایس سربراہ سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دی ہیں، گرچہ ایسے پروفیسروں کی تعداد بیس ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے تین کو موہن بھاگوت سے ملنے کا وقت ملا ہے۔