Bharat Express DD Free Dish

Aligarh muslim university

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی منانے سے متعلق تنازعہ کویہ کہہ کر مزید بڑھا دیا کہ ’’کوئی بھی کسی کواے ایم یوکیمپس میں ہولی منانے سے نہیں روک سکتا۔‘‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پہلے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، لیکن اب اجازت مل گئی ہے۔

اے ایم یو پراکٹر محمد وسیم علی نے کہاکہ روایتی طور پر تمام تہوار بشمول عید، ہولی اور دیوالی سبھی ہاسٹلوں میں منائے جاتے ہیں۔ کسی خاص گروپ کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرنے کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس وقت، ہم ایک نئی مثال قائم کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

جامعہ اسلامیہ سنابل کے بانی اور معروف عالم دین مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی حیات وخدمات پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع ’’مسلمانان ہند کی تعلیمی وسماجی ترقی میں مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کا کردار‘‘ تھا۔

سیمینار میں مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کا مسلمانان ہند کی تعلیمی و سماجی ترقی میں کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیمینار میں مولانا رحمانی رحمہ اللہ کی حیات اورکارنامہ پردو جلدوں پر مشتمل کتاب کا رسم اجراء عمل میں آیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بانی سر سید احمد خان کی بایوپک کو بین الاقوامی سطح پر OTT پلیٹ فارم پر ریلیز کیا گیا ہے، لیکن قومی دوردرشن نے اسے پرسار بھارتی کے OTT پر نشر کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو جمعرات کی شام بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی ہے۔ دھمکی کی اطلاع ملتے ہی پولیس چوکس ہوگئی جس کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی۔

ڈاکٹر خان نے کہا کہ یہ ملک کے لیے فخر کی بات ہوگی کہ ایک عظیم ماہر تعلیم اور سماجی مصلح سرسید احمد خان کو بھی بھارت رتن کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا جائے۔ یہ نہ صرف ان  خدمات کی صحیح معنوں میں اعتراف کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کو تعلیم، سماجی اصلاح اور رواداری کی قدر کرنے کی ترغیب دے گا۔

اے ایم یو میں، غیر ملکی طلباء گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے مقابلے پی ایچ ڈی کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اے ایم یو اب بھی ایک پرکشش آپشن ہے۔ فی الحال اے ایم یو میں 26 ممالک کے 170 غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں۔

مختلف سرکردہ قائدین ملت نے بہ یک زبان فیصلے پر اظہار مسرت کے ساتھ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک ایسا پائیدار اور تاریخ ساز فیصلہ ہے، جس سے مسلم مدارس اور مسلم اقلیت کی لاچارگی کو مدت دراز تک تقویت فراہمی کے علاوہ اداروں کی آئینی سیرابی کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

سید سعادت اللہ نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ حکومتیں اور مقامی حکام یہ سمجھیں گے کہ اقلیتیں، خاص طور پر مسلمان، ہندوستان کا ایک لازمی حصہ ہیں، اور تعلیم، معاش، تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔