Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

اکھلیش یادو کی یہ تنقید اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں حکومت کی پالیسیوں، فیصلوں اور وقت بندی پر اب زیادہ سنجیدگی سے سوال اٹھا رہی ہیں۔ یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی تجارت، قومی سلامتی، عدالتی فیصلے اور سفارتی تعلقات اب سیاسی بحث کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون... آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟

امت شاہ نے لوک سبھا میں کانگریس لیڈر چدمبرم کے تبصرے کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو وہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے؟ مجھے بہت دکھ ہوا کہ پیر کو اس ملک کے سابق وزیر داخلہ چدمبرم جی نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے؟

بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدرجمال صدیقی کا کہنا ہے کہ یا تومسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی عوام سے معافی مانگیں اوراپنی غلطی کا اعتراف کریں، ورنہ جمعہ کے روز 25 جولائی کوبعد نمازجمعہ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے لیڈران کی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

جمال صدیقی نے اکھلیش کی میٹنگ پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی پہلی منزل پر خواتین تھیں جن کے سر نہیں ڈھکے تھے اور ان کے کپڑے مسجد کے وقار کے مطابق نہیں تھے۔ اس سے مسجد کے احاطے کی توہین ہوئی ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کو مذہبی مقام کے وقار کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کی شکایت مسجد انتظامیہ سے کریں گے۔

اجلاس کے دوسرے دن کے آغاز پر اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ کے باہر مشترکہ احتجاج کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بہار میں انتخابات سے قبل SIR مہم کو ’متعصبانہ اور غلط‘ انداز میں چلانے کا الزام لگایا۔ اس احتجاج میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو جیسے بڑے لیڈروں نے شرکت کی۔ وہ تختیاں اور پوسٹر لہرا رہے تھے جس میں انتخابی ہیرا پھیری کا الزام لگایا گیا تھا۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آپ یہ کیسے بھول گئے کہ یہ آپ کا سیاسی دفتر نہیں بلکہ مسجد ہے؟آج آپ نے اپنی پارٹی کی میٹنگ کی، کل دوسری پارٹی کے لیڈران اپنی میٹنگ کیلئے ہوٹل کے بجائے اس مسجد کا انتخاب کریں گے تو آپ انہیں کیسے منع کریں گے ؟

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر کے روز سے شروع ہو گیا ہے، حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ’آپریشن سندور‘ پر تلخ تکرار نے ایوان میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں جہاں پہلگام دہشت گردانہ حملے پر حکومت سے جواب اور آپریشن سندور کی شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔

اتر پردیش میں سامنے آنے والے تبدیلی مذہب کے معاملات پر انھوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

اترپردیش کے اعظم گڑھ میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادوکے پروگرام کے دوران سیکورٹی میں کوتاہی کی اطلاع ملی ہے۔ حالانکہ پولیس اہلکاروں نے فوراً نوجوان کو روکا اور حراست میں لیا۔ اس معاملے کے بعد سماجوادی پارٹی نے انتظامیہ پر الزام لگائے ہیں۔