Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے سابق کابینی وزیر اعظم خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر تصاویر شیئرکیں۔ ساتھ ہی

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو، پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان سے ملنے رام پورپہنچے ہیں۔ رام پور کے رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی کو اکھلیش یادو نے بریلی ایئرپورٹ پر چھوڑ دیا ہے۔ اس سے پہلے اعظم خان نے ایک اپیل کی تھی۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: سچائی، عدم تشدد اور ہم آہنگی کے اصولوں سے بھارت کو متحد کرنے والے باپو کے نظریات ہمیں نفرت کے سامنے امن، بھائی چارے، سچائی اور انسانیت کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کو جینتی کے موقع پر سچے دل سے نمن۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے سابق حکومتوں پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ ماضی میں دہشت گردوں کو بچانے کی سفارشات ہوتی تھیں اور دہشت گردوں کے رشتے داروں کو رکن اسمبلی یا رکن پارلیمان کے ٹکٹ تک دیے جاتے تھے۔ اُن کے بقول، آج یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں قانون کا راج قائم ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پر طنز کرتے ہوئے سُمیّہ رانا نے کہا کہ ان کی زبان ان کی پہچان ہے۔ وہ یوپی کی عوام کے وزیر اعلیٰ کم، بلکہ ایک مخصوص برادری کے وزیر اعلیٰ زیادہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی پارٹی ہمیشہ پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کی آواز رہی ہے اور آگے بھی رہے گی۔

سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان لمبے وقت کے بعد آج جیل سے رہا ہوئے۔ وہ کالا چشمہ لگاکراپنے پرانے اندازمیں نظرآئے۔ سیتا پورجیل کے باہران کے حامیوں کی زبردست بھیڑ جمع ہوئی تھی۔ اکھلیش یادواورشیوپال یادوسمیت پارٹی کے کئی لیڈران نے عدالت کا شکریہ ادا کیا۔

راجیشور سنگھ نے کہا کہ آج کا نوجوان طبقہ ذات پات، خوشامدی سیاست اور ووٹ بینک کی سیاست کو مسترد کر چکا ہے۔ اس کی امیدیں اب ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر قیادت سے جڑی ہوئی ہیں۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ کرپشن، کڈنیپ اور ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ میں یوپی سب سے آگے ہے۔ سب سے زیادہ لوگ سی ایم ہاؤس کے باہر زہر کھا کر مر رہے ہیں۔ پنچایتی راج میں 60 فیصد کمیشن چل رہا ہے۔ بی جے پی لیڈران کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ کھوکھلے ہیں۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ اگرچہ این ڈی اے کے پاس عددی اکثریت ہو سکتی ہے، مگر اس انتخاب میں اصل چیز ضمیر کی آواز ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ اس کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری بڑھے گی۔ اس کے بعد جب مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ جائے گی تو حکومت کے خلاف غصہ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اس کے بعد دوسروں کے سہارے چل رہی، بغیر اکثریت کے بی جے پی حکومت اور بھی کمزور ہو کر لڑکھڑا جائے گی۔