Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

عمران مسعود نے کہا کہ ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کرانے کے بعد اب وہ اسے "خوشگوار انداز میں حل کرنے" کی بات کر رہے ہیں۔ ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سماج میں نفرت نہ پھیلائیں۔ ورنہ آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایسی سیاست سے سماج تقسیم ہو جائے گا۔

راہل گاندھی نے کہا، "حقیقت یہ ہے کہ وہ بات نہیں کر سکتے۔ سچائی ملک کے سامنے ہے۔ یہ لڑائی سیاسی نہیں ہے، یہ لڑائی آئین بچانے کی ہے، یہ لڑائی ایک فرد، ایک ووٹ کی ہے۔ ہم ایک صاف و شفاف ووٹر لسٹ چاہتے ہیں۔

پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ اپوزیشن نے SIR کے خلاف نعرے بازی کی، جس کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے یہ میٹنگ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ صرف ایک رسمی بحث ہی رہ جائے گی۔

یوپی کے پنچایتی راج محکمہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ پر سماجوادی پارٹی کے سر براہ اکھلیش  یادو نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ جوبھی غیر قانونی قبضہ ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن کسی خاص ذات یا مذہب کے لوگوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟۔

اکھلیش یادو کی یہ تنقید اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں حکومت کی پالیسیوں، فیصلوں اور وقت بندی پر اب زیادہ سنجیدگی سے سوال اٹھا رہی ہیں۔ یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی تجارت، قومی سلامتی، عدالتی فیصلے اور سفارتی تعلقات اب سیاسی بحث کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون... آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟

امت شاہ نے لوک سبھا میں کانگریس لیڈر چدمبرم کے تبصرے کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو وہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے؟ مجھے بہت دکھ ہوا کہ پیر کو اس ملک کے سابق وزیر داخلہ چدمبرم جی نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے؟

بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدرجمال صدیقی کا کہنا ہے کہ یا تومسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی عوام سے معافی مانگیں اوراپنی غلطی کا اعتراف کریں، ورنہ جمعہ کے روز 25 جولائی کوبعد نمازجمعہ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے لیڈران کی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

جمال صدیقی نے اکھلیش کی میٹنگ پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی پہلی منزل پر خواتین تھیں جن کے سر نہیں ڈھکے تھے اور ان کے کپڑے مسجد کے وقار کے مطابق نہیں تھے۔ اس سے مسجد کے احاطے کی توہین ہوئی ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کو مذہبی مقام کے وقار کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کی شکایت مسجد انتظامیہ سے کریں گے۔