Bharat Express DD Free Dish

AIMPLB

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مسلم پولس افسر کی داڑھی پر مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو نہ صرف حق بجانب بلکہ مذہبی آزادی کے دستوری حق اور تکثیری سماج میں ہر طبقہ و فرد کی مذہبی وثقافتی آزادی کے عین مطابق سمجھتا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ مسلم خواتین سی آرپی سی کی دفعہ 125 کے تحت اپنے سابقہ شوہرسے کفالت کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

ہائی کورٹ نے 22 مارچ 2023 کے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ایک سیکولر ریاست کو مذہبی تعلیم کے لیے بورڈ بنانے یا اس سے منسلک کسی خاص مذہب اور اسکولی تعلیم کے لیے خصوصی طور پر بورڈ قائم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے امت مسلمہ سے کہا کہ پران پرتشٹھا کے موقع پر اپنے گھروں میں چراغ جلانا اور ایسے پروگراموں میں شرکت کرنا غیر شرعی عمل ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی رکن محمد سلیمان نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان یوگی یا پھر پجاری کی حیثیت سے دیا گیا ہے اورایک فریق کے لئے دیا گیا بیان ہے۔

موجودہ حکومت بار بار یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی بات کرتی ہے۔ یہ ملک کی اقلیتوں اور قبائلیوں کے خلاف سازش ہے۔ ملک کے کسی بھی طبقے پر بغیر رضامندی کے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنا دراصل اس کی شناخت کو مٹانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش ہے۔

اس طرح کےبے بنیاد، غیر مستند اور فرضی سروے کرواکر یہ چینلز ملک کے ارباب حل و عقد اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش کررہے ہیں، حالانکہ اس سے بالآخر ان کی ہی ہوا خیزی ہوگی۔ بورڈ ملک کے ارباب حل و عقد اور سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس طرح کے بے بنیاد، غیر مستند اور گمراہ کن سروے سے ہرگز بھی متأثر نہ ہوں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ریلی میں یونیفارم سول کوڈ کا ذکرکیا۔ اس کے بعد سے ہی یہ موضوع ملک کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ اس پر جم کر سیاسی ہنگامہ جاری ہے۔

ہندوستان مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں کا ایک گلدستہ ہے اور یہی تنوع اس کی خوبصورتی ہے، اگر اس تنوع کو ختم کیا گیا اور ان پر ایک ہی قانون مسلط کر دیا گیا تو اندیشہ ہے کہ اس سے قومی یکجہتی متأثر ہوگی۔

AIMPLB:  مسلم پرسنل لا بورڈ کو اپنا نیا چیئرمین مل گیا ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو اے آئی ایم پی ایل بی کا نیا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ آج اندور میں AIMPLB کی میٹنگ میں لیا گیا ہے۔ بتا دیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر کا عہدہ …