Bharat Express DD Free Dish

AIMIM

بدھ کے روز رام پور ضلع انتظامیہ نے اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید گرما گیا۔

شاداب چوہان نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سونم وانگچک کو اپوزیشن کی کتنی حمایت حاصل ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ایک سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم حکومت کے سامنے اپنے دلائل اور تجاویز پیش کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

بی ایم سی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پربھنی ضلع کی ذاتی سرٹیفکیٹ تصدیقی کمیٹی نے 27 اپریل 2026 کوروشن شیخ کے او بی سی سرٹیفکیٹ کو منسوخ کر دیا تھا۔ یہ سرٹیفکیٹ نومبر 2025 میں جاری کیا گیا تھا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر اسدالدین اویسی نے راجستھان کے بیکانیر، جیسلمیر وغیرہ سرحدی اضلاع میں مسلمانوں کے مذہبی مقام کو توڑنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اسے جان بوجھ کرکی گئی امتیازی کارروائی بتایا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈومریاگنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے اسدالدین اویسی کی للکار پر سخت پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے اسدالدین اویسی سے متعلق کہا کہ انہوں نے مہاراجہ سہیل دیو سے منسلک سرزمین پر ایک حملہ آور کی تعریف کرکے اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے۔ یہ خوشنودی کی سیاست ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم اورنفرت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

سالار غازی درگاہ کے تنازع کے معاملے پر اسدالدین اویسی نے کہا کہ سب ختم ہو گئے لیکن سالار غازی کی درگاہ آج بھی قائم ہے۔ اسدالدین اویسی اتر پردیش کے بہرائچ پہنچے ہوئے تھے۔ جہاں انہوں نے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے عوام میں بگل پھونک دیا۔

امبیڈکر نگر میں پریس کانفرنس کے دوران اوم پرکاش راج بھر فل ایکشن میں نظر آئے۔ اس دوران وہ اپنی زبان کی حدیں بھی پار کر گئے۔ انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی کو ان پڑھ بتانے کے ساتھ گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اب ان کی یہ ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے۔

شوکت علی کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ انل راج بھر کی جانب سے درگاہ کے سروے کے مطالبے اور اس پر شوکت علی کے جوابی بیان نے ریاست کی سیاست میں ایک نئی لفظی جنگ کو جنم دے دیا ہے۔

وارث پٹھان نے کہا کہ جس معاملے کو لے کر سیاسی بحث جاری ہے، اس میں فردِ جرم پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے اور مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو عدالت کے فیصلے سے قبل کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں ہے۔

اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے اب تک یہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے کہ کتنے افراد کو غیر ملکی قرار دے کر فہرست سے باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کے باعث متاثر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کی ہے۔