Bharat Express DD Free Dish

Accident

مشتعل ہجوم نے پولیس کی گاڑیوں، بسوں اور موٹر سائیکلوں سمیت تقریباً 10 گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ سڑک کے کنارے کھڑی 3 سے 4 موٹر سائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے ٹریفک پولیس کی ایک چوکی کو بھی آگ لگا دی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سڑکوں کی تعمیر مقررہ معیار کے مطابق کی جائے، وقتاً فوقتاً مرمت کا نظام مؤثر بنایا جائے اور خطرناک مقامات کی بروقت نشاندہی کرکے ان کی اصلاح کی جائے تو بڑی تعداد میں حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ حکومت نے اسی مقصد کے تحت قومی شاہراہوں پر 6,358 بلیک کوریڈورز کی نشاندہی کی ہے، جہاں بہتری کے لیے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس، ڈی ڈی ایم اے اور مقامی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اتوار کو کئی گھنٹوں تک سرچ آپریشن جاری رہا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ رات کے وقت اندھیرا ہونے اور پانی میں حد نگاہ کم ہونے کے باعث تقریباً ساڑھے دس بجے آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا

رام پور کے ٹانڈہ-مرادآباد روڈ پر کھڑے ٹرک سے تیز رفتار ایکو کار ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ایس پی نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی، جبکہ ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

اس واقعے کے بعد سرکاری اسپتالوں کی عمارتوں کے معیار، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مریضوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عمارت کی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق حادثے کا شکار نجی ولوو بس بہار رجسٹریشن نمبر کی تھی، جو لکھنؤ سے دہلی جا رہی تھی۔ اسی دوران راجستھان رجسٹریشن نمبر کا بجری سے لدا ٹریلر ایکسپریس وے کی تیسری لین میں چل رہا تھا، تیز رفتار بس پیچھے سے اس سے جا ٹکرائی۔

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں بہتر علاج کے لیے پریاگ راج ریفر کر دیا گیا ہے۔ زخمی ٹول ملازمین کی شناخت ہیرامن، آلوک، کرشن پال، اتُل اور راجو کے طور پر ہوئی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ(پی ایم این آر ایف) سے متاثرین کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حادثے میں جان گنوانے والے ہر فرد کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی،