Bharat Express DD Free Dish

Accident

رام پور کے ٹانڈہ-مرادآباد روڈ پر کھڑے ٹرک سے تیز رفتار ایکو کار ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ایس پی نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی، جبکہ ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

اس واقعے کے بعد سرکاری اسپتالوں کی عمارتوں کے معیار، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مریضوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عمارت کی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق حادثے کا شکار نجی ولوو بس بہار رجسٹریشن نمبر کی تھی، جو لکھنؤ سے دہلی جا رہی تھی۔ اسی دوران راجستھان رجسٹریشن نمبر کا بجری سے لدا ٹریلر ایکسپریس وے کی تیسری لین میں چل رہا تھا، تیز رفتار بس پیچھے سے اس سے جا ٹکرائی۔

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں بہتر علاج کے لیے پریاگ راج ریفر کر دیا گیا ہے۔ زخمی ٹول ملازمین کی شناخت ہیرامن، آلوک، کرشن پال، اتُل اور راجو کے طور پر ہوئی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ(پی ایم این آر ایف) سے متاثرین کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حادثے میں جان گنوانے والے ہر فرد کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی،

اس خوفناک حادثے کے بعد مصروف جبل پور-منڈلا ہائی وے پر ٹریفک کی آمدورفت کچھ وقت کے لیے متاثر رہی، کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ جائے حادثہ پر جمع ہو گئے تھے۔ بعد ازاں پولیس نے تباہ شدہ گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک بحال کردیا۔

ایک وقت میں بھارتی فضائیہ کے پاس ایسے 100 سے زائد طیارے موجود تھے۔ وقتاً فوقتاً ان میں جدید ایویونکس، نیویگیشن اور حفاظتی نظام نصب کر کے اپ گریڈ بھی کیا گیا ہے۔ تاہم طویل سروس لائف کے باعث انہیں مرحلہ وار نئے ٹرانسپورٹ طیاروں سے تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔

پولیس اور امدادی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر سیان اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال کے اسسٹنٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رندھیر کے مطابق تقریباً 22 سے 25 سال عمر کے ایک نوجوان کو اسپتال لایا گیا تھا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکا تھا۔