Bharat Express DD Free Dish

Accident

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کے ٹرانسفارمرز کی حالت پہلے سے خراب تھی اور کئی بار شکایات بھی درج کرائی گئی تھیں، مگر بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔

حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور آس پاس کے لوگ بڑی تعداد میں وہاں جمع ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ لاشوں کو نکال کر ضلع اسپتال مئو بھیجا گیا،

واقعے پرعمرعبداللہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل وقت میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "تمل ناڈو کے کوئمبٹور میں ہونے والے حادثے کے بارے میں جان کر مجھے بہت دکھ ہوا

نریندر مودی نے آندھرا پردیش کے کرنول ضلع میں پیش آئے دردناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مہلوکین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ ساتھ ہی وزیراعظم نے متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔ پی …

مقامی باشندے بھی واقعے پر شدید برہم ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جہاں یہ حادثہ ہوا، وہ رہائشی علاقہ ہے اور رات کے وقت بے قابو رفتار والی گاڑیاں اکثر اسی طرح کے حادثات کو جنم دیتی ہیں۔ یہ واقعہ سڑک پر حفاظتی اقدامات اور رفتار کنٹرول کے اہم سوالات کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔

حادثے میں دونوں گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کر دی۔ زخمیوں کو مارکاپورم کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متعدد مسافر شدید زخمی ہیں۔

فریدپور فائر سروس کے کمانڈر محمد بلال الدین نے کہا، "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کم از کم 35 لوگ لاپتا ہیں۔ بچاؤ مہم جاری ہے۔"رات تقریباً 11:15 بجے بس کا کچھ حصہ دیکھا گیا، اور 11:30 بجے تک جہاز کی کرین کے ذریعے پوری بس کو نکال لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بس ٹرین کے انجن میں پھنس گئی تھی اور ٹرین کے رکنے سے پہلے تقریباً ایک کلومیٹر تک گھسٹتی رہی، جس سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ زخمیوں کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد فوراً موقع پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی میں سوار تمام افراد اٹاوہ ضلع کے رہنے والے تھے اور مندر سے واپس آ رہے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ زور دار ٹکر کی آواز سن کر مقامی افراد اور راہگیر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو گاڑی سے باہر نکالنے میں مدد دی