Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی اہلیہ نے صاف طورپر کہا کہ اس معاملے سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نظم و نسق کا معاملہ ہے، یہ حکومت کا معاملہ ہے، اسے حکومت کو دیکھنا چاہیے۔

گِٹ ہب، ایک مقبول ڈویلپر پلیٹ فارم، ہندوستان میں 17 ملین سے زیادہ ڈویلپرز ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اکتوبر میں 13.2 ملین تھی جو کہ ایک سال میں 28 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کا یہ بیان فوج کے انسداد دہشت گردی آپریشن کے بعد آیا ہے، جس میں ہندوستانی فوج نے اکھنور میں 28 اکتوبر کو فوجی قافلے پر حملے کے بعد تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

نائب  وزیر اعلی دیونیدر فڑنویس سے جب یہ پوچھا گیا کے وہ شرد پوار اور ادھو میں سے کس کا انتخاب کریں گے، فڑنویس نے کہا، "ہم تینوں (مہاوتی) ایک ساتھ ہیں، ہماری حکومت آنے والی ہے۔

آئی اے ایس دنیش شرما نے کہا کہ یہ ایک گھناؤنا جرم ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ ہم معاملے کی جوڈیشل انکوائری کریں گے اور 3 دن میں رپورٹ دیں گے۔

ملزمان کی شناخت اوبرا تھانہ کے گورتارا گاؤں کے رہنے والے سالک کمار سنگھ اور چیچڑی گاؤں کے رہنے والے اتم کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ ان سے 12 بور کے 260 کارتوس، .32 بور کے 500 کارتوس اور 315 بور کے 60 کارتوس سمیت کل 820 کارتوس برآمد ہوئے۔

بی جے پی کی بہار یونٹ کے صدر دلیپ جیسوال نے کہا کہ آر جے ڈی اور کانگریس میں لیڈروں اور کارکنوں کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے لیڈران ذاتی عزائم کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں ان کی پارٹی زوال پذیر ہے۔ جبکہ این ڈی اے کی طاقت ووٹر اور کارکنان ہیں۔

ملزم ڈاکٹر نے متاثرہ کی بے ہوشی کی حالت میں کچھ تصاویر بھی لیں۔ اس کے بعد ملزم نے اسے تصاویر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل بھی کیا۔ متاثرہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ملزم ڈاکٹر نے اسے بلیک میل کیا اور کئی بار ریپ کیا۔ یہ بھی الزام ہے کہ ڈاکٹر نے اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر اس سے تقریباً 4 لاکھ روپے لیے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی سیکر کے ضلع کلکٹر مکل شرما، ایس پی بھون بھوشن یادو، سٹی ڈی ایس پی (آئی پی ایس) شاہین سی اور اے ڈی ایم رتن کمار موقع پر پہنچ گئے۔ حادثے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

چینئی کے تاجر اور سماجی کارکن الباس محمد مشتاق نے قرآن سے کامیابی کے موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کاکھلےذہن سےمطالعہ کرنا اشد ضروری ہے۔موجودہ دور میں آسمانی صحیفوں کو ہم تعظیم کی نظر سے تو دیکھتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات پر غوروفکر نہیں کرتے ۔