Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اترپردیش کے سنبھل میں سی اوانوج چودھری کے بیان کے بعد کئی طرح کے سوال کھڑے ہو رہے تھے۔ اپوزیشن حکومت اورانتظامیہ کے طریقہ کارپر سوال اٹھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ڈی ایم نے افسران کی میڈیا بریفنگ پرروک لگا دی ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی منانے سے متعلق تنازعہ کویہ کہہ کر مزید بڑھا دیا کہ ’’کوئی بھی کسی کواے ایم یوکیمپس میں ہولی منانے سے نہیں روک سکتا۔‘‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پہلے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، لیکن اب اجازت مل گئی ہے۔

امرپالی معاملے میں 27 فروری کو ایک پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ این بی سی سی گروپ کی رکی ہوئی اسکیموں کو پورا کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اب تک 25 ہزار فلیٹوں کا کام مکمل ہوچکا ہے اور ڈیفالٹر گھر یلو خریداروں کے 6,686 فلیٹ بیچ کر3,177 کروڑ روپئے اکٹھے کئے جا چکے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے مختارانصاری کے بیٹےعباس انصاری کواترپردیش گینگسٹراورسپریم کورٹ نے اترپردیش گینگسٹراینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (روک تھام) ایکٹ 1986 کے تحت درج ایک کیس میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔

جموں وکشمیر میں بجٹ پیش ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے زراعت کے لئے 815 کروڑ، ٹورازم کے لئے 390 کروڑ روپئے تقسیم کئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہیلتھ سیکٹر پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ بجٹ میں دو نئے ایمس اداروں اور10 مکمل طورپرلیس نرسنگ کالجوں کے لئے بھی انتظامات شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مہا کمبھ کے دوران عقیدت مندوں نے بینکوں سے کافی رقم نکالی۔ اس سے ملکی معیشت کو بڑا فروغ ملا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بینکوں سے نکالے گئے ایک لاکھ کروڑ روپے ابھی تک بینکوں میں واپس نہیں آئے ہیں۔

ماہرین نے اس سے قبل تجویز کیا تھا کہ 2020 میں جی ایچ جی کے اخراج میں کمی کو کووڈ 19 کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

Lenovo نے ہندوستان میں AI میں تیزی سے ترقی دیکھی ہے۔ اس کی آمدنی سالانہ 2.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ Lenovo Motorola اسمارٹ فونز ہندوستان سے عالمی مارکیٹ میں برآمد کررہا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اب تمام Motorola فون بھارت میں تیار کیے جا رہے ہیں۔

کمپنی جنوب مشرقی ایشیائی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کرنے کے اپنے اقدام کے تحت سنگاپور پہنچی ہے۔ فروری 2022 میں کمپنی نے ملائیشین فنٹیک کمپنی Curlec میں اکثریتی حصص لے لیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  تقریباً 80 طیارے اس وقت تکنیکی وجوہات (MRO سپلائی چین کے مسائل) کی وجہ سے کام میں نہیں ہیں۔