Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

راجیہ سبھا میں کل دیررات وقف ترمیمی بل پرہوئی ووٹنگ میں نیا تال میل نظرآیا۔ وقف ترمیمی بل کی حمایت 128 ووٹ پڑے اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے جبکہ حکومت کے پاس 125 اوراپوزیشن کے پاس 88 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ایسے میں آئیے آپ کو پوری تفصیل بتاتے ہیں۔

زخمی بزرگ کے مطابق کچھ لوگ اسے زخمی حالت میں تھانے لے گئے اور پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ جب یہ معاملہ پولیس افسران کے علم میں آیا تو سی او دیپک تیواری نے فوری طور پر پولیس کو موقع پر بھیجا اور تحقیقات کرائی لیکن تب تک ملزم فرار ہو چکے تھے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے الزام لگایا کہ حکومت اس بل کو مسلم خواتین کے مفاد میں بتا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلم طبقے کے خلاف ایک سیاسی ایجنڈا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ لایا گیا وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی منظور ہوگیا ہے۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی بحث کافی دیرتک چلے گی۔ اب یہ بل قانون بننے کی سمت میں آگے بڑھ چکا ہے۔

لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل کو پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔ جے ڈی یو کے اس موقف کی مخالفت میں سینئرلیڈرقاسم انصاری نے استعفیٰ دے دیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈرامتیازجلیل نے لوک سبھا میں منظور وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کے خوف سے چندرابابو نائیڈو اورنتیش کمار نے بل کی حمایت کی۔

آرجے ڈی کے سینئرلیڈر عبدالباری صدیقی نے کہا کہ مجھے بہت حیرانی ہے کہ نتیش کمار کیسے وقف بل کی حمایت کر رہے ہیں؟ اقتدار کے لئے لوگ نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ جلد بھگدڑ مچے گی۔

وقف ترمیمی بل، 2024 پربدھ کولوک سبھا میں ووٹنگ ہوئی۔ بل کے حق میں 288 ووٹ پڑے تومخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ کے بعد بھی اجیت پوار کی پارٹی این سی پی کا رخ سامنے نہیں آیا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 کو لوک سبھا میں اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے درمیان منظورکرلیا گیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 پرآج لوک سبھا میں بحث ابھی تک جاری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے قانون بننے کے بعد اسے ماننا ہی پڑے گا۔