Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

پہلگام دہشت گردانہ حملہ سے متعلق معروف دانشور ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ پاکستان نے حملہ کرایا، اس کا جواب تو دینا ہی چاہئے، لیکن ہمارے ملک کی حکومت کی ناکامی کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ کو ذمہ داری لیتے ہوئے معافی مانگنی چاہئے۔

مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کرلوگوں کومارا توکیا ہندوستان کے مسلمان ان کی مدد کے لئے کھڑے نہیں ہوئے؟ پھرمسلمانوں کی ایسی شبیہ کیوں بنائی جا رہی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے سے متعلق دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثرجہاں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک اوردہل کا دہلا دینے والا گھناؤنا عمل تھا، میں اس پرشرمندہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔

چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ کے سامنے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے فورنسک رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد بنچ نے لاء افسر سے معاملے کی جانچ سے متعلق ریاستی افسران سے ہدایت لینے کو کہا۔

کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور طویل مدت تک سخت حفاظتی اقدامات کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن پہلگام کا المناک واقعہ ظاہرکرتا ہے کہ کشمیر میں معمول کی صورتحال بحال نہیں ہوئی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان اورپاکستان دونوں ایٹمی ملک ہیں، لیکن لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے حالات میں ہندوستان کے روپئے کی قیمت زمین پرآجائے گی۔

ہاتھرس کے سادآباد کے مڈھوالی گرام پنچایت کے ناگلا دورجیا گاؤں کے ایک کسان کے ایرٹیل پیمنٹ بینک اکاؤنٹ میں اچانک بڑی رقم پہنچ گئی۔ یہ رقم 10 نیل 01 کھرب 35 ارب 60 کروڑ 13 لاکھ 95 ہزار 421 کھرب 235 ارب 60 کروڑ 13 لاکھ 89 ہزار 542 روپے بتائی جارہی ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق گاندھی نگر میں 6 منزلہ عمارت کی پہلی منزل پر جوتوں کا کارخانہ تھا اور اوپری منزل پر لوگ رہتے تھے۔

منوج پاسوان کی طرف سے دی گئی اطلاع کے بعد پولیس نے بوری میں بندھی لاش برآمد کی۔ پولیس نے دو روز قبل قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ قتل کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

خشکی سے بند وادی کے لیے فوجی اور تمام شہری سامان اس شاہراہ سے گزرتا ہے۔ اس اسٹریٹجک ہائی وے کی عارضی بندش سے وادی میں ضروری اشیاء بشمول پٹرولیم مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔