Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

وقف ترمیمی بل پرلوک سبھا میں بحث کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈراور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بل کی کاپی کوپھاڑ دیا۔ انہوں نے احتجاج کے طورپربل کی کاپی کو پھاڑا ہے۔ اویسی نے کہا کہ حکومت کی منمانی ہے اوریہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر سیدعین الحسن نے طلبہ کو ان کی کامیابی پرمبارکباد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

شیوسینا یوبی ٹی کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ حکومت کے قول وفعل (کتھنی اورکرنی) میں فرق ہے۔ ابھی سوغات مودی چل رہا تھا۔ اب سوغات وقف بل آگیا ہے۔

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے وقف ترمیمی بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت طے کیا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن نے بحث کے لئے 12 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔ اس پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امورکرن رجیجو کا کہنا ہے کہ بحث کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی آج جب پارلیمنٹ پہنچے تو وہ سیاہ کپڑے میں نظر آئے۔ انہوں نے اس دوران کہا کہ یہ وقف بل اقلیتوں کے حقوق پرحملہ ہے، اسے ہم ہرگزقبول نہیں کریں گے۔

وقف ترمیمی بل 2024 سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے سخت اعتراض ظاہرکیا ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور وقف جائیداد پر حکومت کا کنٹرول بڑھاتا ہے۔ بل کی مخالفتم یں 5 کروڑ سے زیادہ ای-میل بھیجے گئے ہیں، لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہیں دیا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ بل پربحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں کل یعنی جمعرات کو اس بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن پارٹیاں پوری طرح سے اس بل کے خلاف ہیں اوروہ ایوان کے اندراور باہرہنگامہ کر رہی ہیں۔

یکساں سول کوڈ اور تبدیلی مذہب مخالف قوانین کے نفاذ کے بعد اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے مغل ناموں والے 15 علاقوں کے نام تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرامت پرساد نے دلیل دی تھی کہ دہلی میں فسادات کی بڑی سازش میں کپل مشرا کے رول کی پہلے ہی چھان بین ہوچکی تھی۔ سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کوبتایا تھا کہ کپل مشرا کوپھنسانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

مرکزی حکومت 2 اپریل کو وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کرنے والی ہے۔ اس سے پہلے ٹی ڈی پی نے واضح کیا کہ وہ حکومت کی حمایت کرے گی یا نہیں۔