Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

بہار میں ڈبل انجن حکومت ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو اقتدار میں ہیں۔ لیکن اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ بہار کو سنبھالنے میں نتیش حکومت کس طرح ناکام رہی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں پرشانت کشور (Prashant Kishor) یعنی پی کے کے کئی امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ ایسے میں جن سوراج (Jan Suraj) نے اب جوابی کارروائی کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔

جموں و کشمیر کے راجیہ سبھا انتخاب میں نیشنل کانفرنس نے 3 جبکہ بی جے پی نے 1 نشست جیتی ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد یہ پہلا انتخاب تھا۔ نیشنل کانفرنس نے راجیہ سبھا میں اپنی برتری مضبوط کی ہے۔

اگر گزشتہ دو روز کی بات کی جائے تو سونا اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، حالانکہ دیوالی کے وقت چاندی کی قیمت میں ریکارڈ تیزی درج کی گئی تھی۔

انڈین ریلوے نے چھٹھ کے بعد مسافروں کی واپسی کے لیے بڑی تیاری کر لی ہے۔ 28 اکتوبر سے نومبر کے درمیان 6181 اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ 24×7 وار روم اور طبی سہولتیں فعال رہیں گی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو سیوان میں ایک انتخابی ریلی کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو اور اپوزیشن اتحاد پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لالو–رابڑی حکومت کے دور کو ”بہار کا سیاہ دور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیوان نے برسوں تک بدامنی، خوف اور قتل و غارت کا سامنا کیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 2020-21 سے 2022-23 کے درمیان تین سالوں میں 4,860 ہٹ اینڈ رن کے واقعات درج کیے گئے، جن میں 3,449 ہلاکتیں اور 2,720 زخمی ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ اپریل 2022 سے مارچ 2023 تک گجرات میں تقریباً ہر آٹھ گھنٹے میں ایک ہٹ اینڈ رن موت واقع ہوئی۔

وزیرِاعظم نریندر مودی نے ’خاندانی سیاست‘ کو لے کر کہا کہ ”آر جے ڈی اور کانگریس صرف اپنی نسلوں کی سیاست بچانے میں لگی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے نوجوانوں سے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ جہاں آر جے ڈی ہوتی ہے، وہاں قانون و نظم کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ ان کے دور میں لوٹ، اغوا، تاوان اور قتل ایک صنعت بن گئے تھے“۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش، کونکن، گوا، مہاراشٹر، سوراشٹرا، کچھ، تمل ناڈو، پڈوچیری و دیگر علاقوں میں طوفانی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

دھوریا کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے عوام نے کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کو مستقل ترجیح نہیں دی۔ دھوریا اسمبلی سیٹ 1951 میں قائم ہوئی تھی۔ اب تک یہاں 17 اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں۔ کانگریس، سی پی آئی اور جے ڈی یو (سمتا پارٹی سمیت) نے 5-5 مرتبہ کامیابی حاصل کی، جب کہ 1969 میں ایک آزاد امیدوار نے جیت درج کی۔