Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک پیر کی شام زوردار دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔ دھماکے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون، امیت شاہ نئی دہلی میں ’سہکاری کمبھ 2025‘  کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے اور کوآپریٹو بینکنگ میں نئی پہل پر غور کریں گے۔

16 نومبر کو ہونے والے احتجاج کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔ ہزاروں شرکا کی آمد متوقع تھی مگر دہلی میونسپل کارپوریشن نے پروگرام سے صرف آٹھ روز قبل اجازت منسوخ کردی۔

معروف کوی، مفکر اور تلنگانہ کی ثقافتی شناخت کی علامت مانے جانے والے آندے شری کے انتقال پر پورے ادبی حلقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے ثقافتی اور فکری منظرنامے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

مسلم راشٹریہ منچ کے سینئر عہدیدار، اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کے سابق چیئرمین اور فکری ونگ ہندوستان فرسٹ ہندستانی بیسٹ کے بانی تصوراتی لیڈر بلال الرحمٰن اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

دھماکے سے ایک شخص کے ہلاک ہونے اور کچھ کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی طاقتور تھا جس کے نتیجے میں پانچ سے چھ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ آگ کی لپیٹ میں آکر مزید سات سے آٹھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی اور اس کے اثر سے آس پاس کی اسٹریٹ لائٹس اور گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

راؤز ایونیو کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو جزوی طور پر منسوخ کرتے ہوئے پولیس کو قانونی ضابطوں کے تحت ازسرنو سماعت کی ہدایت جاری کی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوران جن سوراج پارٹی کے سرپرست پرشانت کشور (پی کے) نے بتا دیا ہے کہ لوگوں نے اتنی زیادہ ووٹنگ کیوں کی ہے۔

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں کابینی وزیر اور این ڈی اے کی اتحادی جماعت سُبھاسپا (سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی) کے صدر اوم پرکاش راجبھر نے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں ایک بڑا اور حیران کن دعویٰ کیا ہے۔ راجبھر نے پیر کو کہا کہ بہار میں این ڈی اے اقتدار …

مسلم کمیونٹی پر الزام تراشی کے بعد سابق وزیراعلیٰ کا سخت ردعمل۔ محبوبہ مفتی نے کہا ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ اگر مجرمانہ کارروائی پر بحث ہونی ہے تو اسے ثبوتوں اور تفتیش کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ مذہبی بنیاد پر۔ اس طرح کے بیانات قوم کے اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے خلاف ہیں۔‘‘