Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

پروگرام کی صدارت پروفیسر ایمریٹس عبدالحق نے کی جبکہ معروف دانشور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان، اگنو کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر بصیر احمد خان، فادر سولومن جارج، صحافی معصوم مرادآبادی اور ڈاکٹر خالد رضا خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر نثار احمد خان نے بحسن وخوبی انجام دئیے۔

۔پی ایم مودی نے کہا کہ بین الاقوامی گیتا مہوتسو میں شرکت ان کے لیے باعثِ فخر رہی۔ یورپ اور وسطی ایشیا سمیت کئی ملکوں کے لوگوں نے اس میں حصہ لیا، جو گیتا سے عالمی سطح پر بڑھتی دلچسپی کی علامت ہے۔ 

ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات کے لیے 143 پولنگ مراکز میں 580 بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ آزاد اور منصفانہ پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے 2,320 الیکشن اہلکار

وزیراعظم نے کرناٹک کے تُماکورو کے شہد کی تعریف کی، جو مقامی روایت اور قدرتی مٹھاس کا بہترین امتزاج ہے۔ انہوں نے ناگالینڈ کی “کلف ہنی ہنٹنگ” تکنیک کو ملک میں شہد حاصل کرنے کا سب سے خطرناک طریقہ قرار دیا،

بلائنڈ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا:جس بات پر سب سے زیادہ فخر ہے، وہ یہ کہ ہماری خاتون بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے ایک بھی میچ ہارے بغیر پورا ٹورنامنٹ جیتا ہے۔

محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق ساحلی حصوں میں موسمی صورت حال نہایت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے اضافی فورسز کی تعیناتی لازمی تھی۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سمندر کے قریب جانے سے گریز کریں

اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے نومبر کے مہینے کو بھارت کے لیے خاص قرار دیا اور بتایا کہ اس مہینے میں کئی اہم قومی اور تہذیبی مواقع منائے گئے یا منائے جانے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 26 نومبر کو ‘یومِ دستور’ کے موقع پر پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں دستور سازوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اس معاملے نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان تناؤ مزید بڑھ چکا ہے۔ کانگریس نے ایف آئی آر کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، جب کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کارروائی مکمل طور پر قانونی بنیادوں پر کی گئی ہے۔

یہ نکسلی 2019 سے 2024 کے درمیان کئی مہلک حملوں میں ملوث تھے، جن میں سال 2020 میں منیپا کے مقام پر ٹی سی او سی ٹیم پر حملہ شامل تھے، جس میں 26 جوان شہید اور 20 زخمی ہوئے

کرن رجیجو دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان سے ملاقات کریں گے، اور حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرے گی کہ ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کیا جائے۔