Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

وزیرِ اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر امت شاہ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈّا اور دیگر لیڈروں نے گیتا جینتی کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارکباد دی ہے۔

سنبھل ضلع کے اینچوڑ کمبوہ میں کلکی دھام پر منعقد ہو رہی کلکی کتھا میں شامل ہونے کے لیے بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اُپیندر رائے بھی پہنچے، جہاں دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے ان کا استقبال کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر جے پی نڈا، ناگالینڈ کی رکنِ پارلیمنٹ فانگنوں کونیاک اور دہلی کی وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے ناگالینڈ کے اسٹیٹ ہوڈ ڈے پر عوام کو مبارکباد دی۔ لیڈروں نے ریاست کی شاندار ثقافت، قدرتی حسن اور ترقی کی دعا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

43 سال کے سرویش سنگھ دلت سماج سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 30 نومبر کو خودکشی کر لی۔ وائرل ویڈیو میں سرویش الزام لگاتے ہیں کہ ایس آئی آر کی وجہ سے وہ یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ادھو ٹھاکرے گروپ کے لیڈر سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایکناتھ شندے کے 35 اراکین ٹوٹنے والے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ رویندر چوہان کو بی جے پی کے ریاستی صدراس لئے ہی بنایا گیا ہے۔

زخمیوں کا علاج اس وقت شیو گنگا اور کرائیکوڈی کے اسپتالوں میں جاری ہے۔ کئی مسافروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں خصوصی طبی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

اکھلیش یادونے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش سے ہارنے کے بعد بی جے پی ایس آئی آرکے ذریعہ ووٹ کاٹ رہی ہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کویہ بھی ہدایت دی کہ وہ ایس آئی آرفارم بھرنے میں مدد کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی کا ووٹ نہ کاٹا جائے۔

اکھلیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے پاس بڑے وسائل ہیں اور وہ ایک بڑی نوئیڈا کمپنی کو ہائر کر کے ووٹر لسٹ پر کام کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: 2024 میں جن بوتھوں پر بی جے پی ہاری، وہیں ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زیراہتمام علی گڑھ میں منعقدہ 9 روزہ اردو کتاب میلہ اختتام پذیر ہوگیا۔ قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کلماتِ تشکرادا کرتے ہوئے کہا کہ کتاب دوستی نوجوان نسل کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنائے گی اور ملک کووکست بھارت 2047@ کی جانب لے جانے میں خاصی معاون ثابت ہوگی۔

لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور زیرو آور میں بحث کا مطالبہ کیا گیا۔ ہنگامہ بڑھنے کے بعد اسپیکر نے کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔