Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

بہار اسمبلی کا بجٹ سیشن سوموار سے شروع ہو گیا ہے، جس میں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر اور حزب اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو اپنے پیر کے انگوٹھے میں چوٹ کے باوجود ویل چیئر سے اسمبلی پہنچے اور بجٹ سیشن میں حصہ لے کر اپنی ذمہ داری پوری کی۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے چوتھے دن صدر جمہوریہ کے خطاب پراظہارتشکرتجویزپربحث ہورہی ہے۔ اس درمیان اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ڈوکلام کا موضوع بھی اٹھایا ہے۔ اس دوران ایوان میں جم کرہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

مرکزی بجٹ 2026 پر سابق وزیر خزانہ پی۔ چدمبرم نے حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے جی ڈی پی، ایف ڈی آئی، ایم ایس ایم ای، بے روزگاری اور مالیاتی خسارے سے جڑے 10 بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی۔

فروری کی شروعات کے ساتھ ہی شمالی بھارت میں موسم نے اچانک کروٹ لے لی ہے۔ دہلی-این سی آر، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور پہاڑی ریاستوں میں کہیں گھنا کہرا تو کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش اور برف باری نے سردی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

واقعے کے بعد بس ٹرمینل کے احاطے میں بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ڈرائیور، کنڈکٹر اور مسافر ادھر اُدھر بھاگتے نظر آئے۔ مقامی لوگ بھی آگ بجھانے کی کوششوں میں لگ گئے اور پانی و دیگر دستیاب وسائل کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔

وزیراعظم مودی نے پنجاب کے جالندھر میں سنت گرو روی داس مہاراج کی 649ویں جینتی کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان تقریب میں شرکت کی۔ یہ پروگرام ڈیرہ سچ کھنڈ بلّاں میں منعقد ہوا، جہاں وزیرِاعظم نے مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سنت روی داس کے آشیرواد سے بھارت ضرور وکست ملک بننے کا ہدف حاصل کرے گا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے یکم فروری کو مرکزی بجٹ پیش کر دیا۔ اس بجٹ میں کئی شعبوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بجٹ میں نہ کسانوں کے لیے کوئی بڑی راحت سامنے آئی اور نہ ہی سرمایہ کاروں کو کوئی خاص فائدہ ملا۔ مجموعی طور پر اس بجٹ میں چار ایسے اہم سیکٹر رہے، جن کے ہاتھ خالی رہ گئے۔

وزیراعظم مودی نے عام بجٹ 2026-27 پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ محض تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کی سمت ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے۔