Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

نیٹ یوجی سی پیپرلیک کا معاملہ میں ایک طرف سی بی آئی جانچ چل رہی ہے اورکئی گرفتاریاں ہوچکی ہیں تووہیں اس کی سماعت سپریم کورٹ میں بھی ہو رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ عرضی گزارکو وزارت برائے خواتین واطفال میں سکریٹری اور اے ایس جی ایشوریہ بھٹی کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے سکریٹری سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کو پالیسی کی سطح پر دیکھیں اورتمام فریق سے بات کرنے کے بعد فیصلہ کریں کہ آیا اس معاملے میں کوئی مثالی پالیسی بنائی جا سکتی ہے۔

موسلا دھار بارش کے باعث آٹگاؤں میں ریلوے ٹریک کے ساتھ کی مٹی بھی بہہ گئی۔ حکام نے بتایا کہ شاہ پور میں تقریباً 12 مکانات جزوی طور پر منہدم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی تعلقہ میں 40 گھروں میں پانی داخل ہوا اور گوٹے پاڑا میں ایک کچے مکان کو بھی نقصان پہنچا۔

عام طور پر دہلی کی ہوا بہت خراب رہتی ہے اور فضائی آلودگی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً وارننگ جاری کی جاتی ہیں، لیکن بارش کے موسم میں دہلی کی ہوا بھی صاف ہو جاتی ہے۔ اس بار بھی بارش کی وجہ سے ہوا کی سطح میں بہتری آئی ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ نوئیڈا میں سال 2005 سے 2006 کے دوران ہوئے نٹھاری کیس میں سی بی آئی نے سریندر کولی کو قتل، اغوا، عصمت دری اور ثبوتوں کو تباہ کرنے کے معاملات میں ملزم بنایا تھا

کلکتہ ہائی کورٹ نے سندیش کھالی میں جنسی استحصال زمین ہتھیانے اور راشن گھوٹالے میں سی بی آئی جانچ کے احکامات دیئے تھے۔ ممتا حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج دیا تھا۔ اسے سپریم کورٹ نے خارج کردیا۔

اس واقعے پر پنجاب میں سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے اس واقعہ کو لے کر پنجاب کی بھگونت مان حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفاکانہ واقعہ امن و امان برقرار رکھنے میں عآپ حکومت کی ایک اور ناکامی کو اجاگر کرتا ہے۔

بھارت کی سب سے لمبی ٹرین میں 6 انجن اور 295 بوگیاں ہیں۔ کیا آپ جان کر حیران ہیں؟ جی ہاں، ملک کی سب سے لمبی ٹرین کی لمبائی 3.5 کلومیٹر ہے اور اسے کھینچنے کے لیے 6 انجن لگائے گے  ہیں۔

Delhi Liquor Policy Case: منیش سسودیا دہلی شراب پالیسی معاملے میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ منیش سسودیا کی طرف سے سپریم کورٹ میں مقدمے میں تاخیرکا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت عرضی داخل کی ہے۔

ہیمنت سورین نے کہا، ’’ان کے پاس نہ سوچ ہے اور نہ ہی ایجنڈا‘‘۔ ان کے پاس مرکزی ایجنسیاں ہیں۔ اگر ایم ایل اے کی تعداد کا نصف بھی اکٹھا ہو جائے تو یہ بڑی بات ہوگی۔ لوک سبھا انتخابات نے چہرہ دکھا دیا ہے، اب ریاستی انتخابات باقی ہیں۔