فائل فوٹو: پی ٹی آئی
پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ رائے پور سے تقریباً 170 کلومیٹر مشرق میں، گریابند ضلع میں موتیپانی کے پہاڑی جنگلاتی علاقے کے قریب سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک لمبھی جھڑپ میں ایک نکسلی مارا گیا، تاہم باقی نکسلی قریبی جنگلوں کی طرف بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس انکاؤنٹر میں کسی سیکورٹی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
گریابند ضلع کے پولیس چیف نکھل رکھیچا نے بتایا کہ ’’گریابند میں جوگاد پولیس اسٹیشن حدود کے تحت موتیپانی گاؤں کے جنگلاتی علاقے میں نکسلیوں کی موجودگی کے بارے میں مخصوص معلومات کی بنیاد پر، E-30 ڈسٹرکٹ فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم نے تلاشی مہم شروع کی۔ جب فورسز موتیپانی کے قریب پہاڑی علاقے میں پہنچیں تو نکسلیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ انکاؤنٹر کے بعد ایک نکسلی کی لاش ملی۔ یہ انکاؤنٹر تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔‘‘
آدھے گھنٹے تک جاری رہی جھڑپ
انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد نکسلی قریبی جنگلوں میں بھاگ گئے۔ ہلاک ہونے والے نکسلی کی شناخت ڈویژنل کمیٹی ممبر (DVCM) یوگیش کے طور پر کی گئی ہے جس کے سر پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں کوئی بھی سیکورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا ہے۔ فورسز نے علاقے میں تلاش کی مزید سرگرمیوں کے دوران ایک سیلف لوڈنگ رائفل (ایس ایل آر) اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا ہے۔
واضح رہے کہ نکسلیوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے دوان اس سال چھتیس گڑھ میں مختلف مقابلوں میں اب تک 146 نکسلی مارے گئے ہیں، جن میں بستر ڈویژن میں مارے گئے 129 نکسلی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں نکسلیوں نے حکومت کی بازآبادکاری اسکیم کے تحت ہتھیار بھی ڈالے۔ تازہ انکاؤنٹر گریابند میں ہوا ہے،جو کہ چھتیس گڑھ کا نکسل متاثرہ علاقہ ہے اور اڈیشہ کے ساتھ ریاست کی سرحد پر واقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


