Bharat Express DD Free Dish

سیاست

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پی ایم مودی کے بیان پر جوابی حملہ کیا ہے۔ گورنر سی وی آنند بوس سے ملاقات کے بعد سی ایم ممتا نے میڈیا سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا، “ہمارے وزیر اعظم کا شکریہ۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں 'INDIA' نام پسند ہے۔

آج منی پور جل رہا ہے ۔ منی پورر کی بات ہم کررہے ہیں اور پی ایم مودی ایسٹ انڈیا کی بات کررہے ہیں ۔ پی ایم مودی ایوان میں کیوں نہیں بولتے ہیں ۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ اگر سرکار بحث کیلئے تیار ہے تو آخر267 پر بحث کیوں نہیں کرتے۔

حالانکہ ریاستی حکومت چوکنا ہو گئی ہے۔ لیکن  اہم سوال یہ کہ ان لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے؟ یہ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں؟ انتظامیہ نے اس بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔

ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ملک کے نوجوان مغربی کلچر کی اندھی تقلید کرتے ہوئے جنس مخالف کے ساتھ کھلے تعلقات( اوپن ریلیشن شپ) کو ترجیح دے رہے ہیں۔

منی پور میں گزشتہ تین ماہ سے تشدد جاری ہے۔ اس تشدد میں اب تک 160 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں

دوسری جانب منی پور واقعے کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا گیا کہ کیا ملزمان کو پھانسی دی جائے یا نہیں؟ اس جرم کے مجرموں کو کیا سزا ملنی چاہیے تو اعداد و شمار نے سب کو حیران کر دیا۔ چنانچہ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 87 فیصد لوگوں  نے کہا  کہ کہ ملزمان کو پھانسی دی جانی چاہیے

حزب اختلاف کی اتحادی جماعتوں (I.N.D.I.A) نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے منی پور کے بارے میں دونوں ایوانوں میں بیان کا مطالبہ کیا۔

اہل خانہ ابھی تک بیٹی کی لاش کا انتظار کر رہے ہیں۔ خاتون نے کہا، 'مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا کہ میری بیٹی اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ کبھی کبھی امید ہوتی ہے کہ میری بیٹی واپس آئے گی، کیونکہ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا

دراصل دونوں خواتین کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا تھا اور مرکزی اور ریاستی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی اور کہا تھا کہ حکومت اس پر فوری کارروائی کرے ورنہ ہم کریں گے۔

اسی دوران راجندر گڈھا کو اپنی حکومت پر تنقید کرنا مشکل پڑ گیا۔ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے انہیں وزیر کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ تاہم برطرف کیے جانے کے بعد بھی راجیندر گڈھا نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔