Bharat Express DD Free Dish

سیاست

سوشل میڈیا پر کلپنا مرمو سورین کے لکھے گئے جذباتی الفاظ اور جملوں کو سیاست میں ان کی پہلی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بنچ نے کہا کہ اگر ان تجاویز پر مقررہ وقت کے اندر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے تو دہلی حکومت کے چیف سکریٹری ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہوں گے اور بتائیں گے کہ حکم کی تعمیل کیوں نہیں کی گئی۔

لالو یادو نے کہا کہ مودی نے کہا تھا کہ اگر میری حکومت بنی تو سب کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے آئیں گے۔ ہمیں بھی یقین تھا کہ شاید آئے گا، جن دھن یوجنا کے تحت سب کا اکاؤنٹ کھلا، 15 لاکھ نہیں آئے، مودی نے سب کو دھوکہ دیا۔

پٹنہ کے گاندھی میدان میں آر جے ڈی کی 'جن وشواس مہا ریلی' میں، بہار کے سابق وزیر اعلی اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے کہا، "بہار نے بہت ساری عظیم شخصیات دی ہیں۔

1970 کی دہائی میں پہلے کانگریس اور بعد میں جنتا پارٹی کی حکومت نے پہلی بار انسداد انحراف قانون بنانے پر غورشروع کیا۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے لکھا کہ میں نے کئی اہم  عہدوں پر کام کیاہے۔ اب میں اپنی جڑوں میں لوٹنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ پچاس سال پہلے جب میں نے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی خواہش کے ساتھ کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا تو انسانیت کی خدمت میرا نصب العین تھا۔

گجرات میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی  انڈیا اتحاد کے تحت ایک ساتھ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ آپ (عام آدمی پارٹی)  ریاست کی بھروچ لوک سبھا سیٹ پر کانگریس کو راضی کرنے میں کامیاب رہی۔

پون سنگھ نے پارٹی کی طرف سے لوک سبھا انتخاب میں امیدوار بنائے جانے کے بعد اپنی ہی پارٹی کو جھٹکا دے دیا ہے۔ بی جے پی نے اپنی پہلی لسٹ میں آسنسول سے پون سنگھ کو ٹکٹ دے کر میدان میں اتارا تھا ،جہاں ٹی ایم سی کے شتروگھن سنہا کے ساتھ مقابلہ متوقع تھا لیکن اس سے پہلے ہی پون سنگھ نے اس سیٹ سے الیکشن لڑنے سے انکار کردیا ہے۔

فہرست سامنے آنے کے بعد جن اراکین پارلیمنٹ کے ٹکٹ کینسل ہوئے ہیں ان کا سب سے زیادہ چرچا ہو رہا ہے۔ ان ممبران پارلیمنٹ میں چار ایسے ممبران پارلیمنٹ ہیں جن کے بیانات اور سرگرمیوں نے انہیں نہ صرف تنازعات میں الجھایا بلکہ بی جے پی کی بدنامی بھی کی۔ ان ممبران پارلیمنٹ میں پرگیہ ٹھاکر، پرویش صاحب سنگھ ورما، رمیش بدھوری اور جینت سنہا شامل ہیں۔

راہل گاندھی نے گوالیار میں مزید کہا کہ ٹرین کے اے سی کوچوں کی تعداد بڑھانے کے لیے جنرل کوچوں کی تعداد کم کی جا رہی ہے، جس میں نہ صرف مزدور اور کسان بلکہ طلباء اور ملازم بھی سفر کرتے ہیں۔ اے سی کوچز کو تیار کرنے کے معاملے میں بھی عام کوچز کے مقابلے 3 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔