دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسرائیل کی جانب سے کی گئی فضائی کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو سے معافی منگوائی بلکہ ایک سخت حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ اس حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملک نے قطر پر حملہ کیا تو امریکہ، ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کرے گا۔
یہ فیصلہ کب لیا گیا؟
یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ اور قطر طویل عرصے سے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ امریکہ کی فوجی موجودگی اور خطے میں امن قائم رکھنے کی قطری کوششوں کے پیشِ نظر یہ سیکورٹی گارنٹی دی گئی ہے۔
حکم نامے میں کیا کہا گیا؟
اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قطر کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کو بیرونی حملوں سے بچانا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ اگر قطر پر کوئی مسلح حملہ ہوتا ہے، تو امریکہ اسے اپنی سیکورٹی اور امن کے لیے خطرہ تصور کرے گا، اور اس کے خلاف سفارتی، اقتصادی اور فوجی کارروائی کرے گا۔
حکم میں مزید کیا ہے؟
اس کے علاوہ امریکی سیکریٹری آف وار (جنگی امور)، سیکریٹری آف اسٹیٹ (خارجہ امور) اور نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قطر کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بنائیں تاکہ کسی بھی حملے کا فوری جواب دیا جا سکے۔ ساتھ ہی سیکریٹری آف اسٹیٹ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس سیکورٹی گارنٹی کو بار بار دہرائیں اور دیگر اتحادی ممالک کو بھی اس میں شامل کریں۔
یہ بھی پڑھیں:مہاتما گاندھی اور سابق پی ایم لال بہادر شاستری کی یوم پیدائش پر پی ایم مودی نے پیش کی خراج عقیدت
نیتن یاہو نے مانگی معافی
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے چند اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد قطر نے حماس کے ساتھ ثالثی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب نیتن یاہو نے قطر کےپی ایم سے معافی مانگ لی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے حملے نہیں ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

