راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر ابھی تذبذب برقرار ہے۔ دریں اثنا، ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے نے بی جے پی کی مرکزی قیادت کو پارٹی لائن پر قائم رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے فیصلے پر قائم رہیں گی۔ اس بیچ وسندھراراجے جئے پور سے نکل کر دہلی پہنچ چکی ہیں،خبر ہے کہ ہائی کمان نے انہیں بات چیت کے لیے بلایا ہے۔ دہلی میں ان کی کل پارٹی صدر جے پی نڈا سے ملاقات متوقع ہے اور ایسا بھی مانا جارہا ہے کہ وسندھرا راجے امت شاہ سے بھی ملاقات کرسکتی ہیں ۔ انہیں پارٹی کا فیصلہ سنایا جاسکتا ہے یا پھر انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
#WATCH | Former Rajasthan CM and BJP leader Vasundhara Raje leaves for Delhi from Jaipur airport. pic.twitter.com/SviAdgBiz5
— ANI (@ANI) December 6, 2023
دراصل، یہ بات چل رہی ہے کہ بی جے پی اس بار ریاست میں کسی نئے چہرے کو موقع دے سکتی ہے۔ 3 دسمبر کو نتائج آنے کے ایک دن بعد، وسندھرا راجے، جو دو بار وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں، نے 25 ایم ایل اے سے ملاقات کی۔ یہ راجے کی طرف سے طاقت کے ایک شو کے طور پر پیش کیا گیا۔دریں اثنا، بدھ (6 دسمبر) کو راجستھان کی راجسمند کی ایم پی دیا کماری، جے پور کے ایم پی راجیہ وردھن سنگھ راٹھور، راجیہ سبھا کے رکن کیری لال مینا نے ایم پی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق الور کے رکن اسمبلی بابا بالکناتھ بھی جلد ہی عہدے سے استعفیٰ دیں گے۔ بی جے پی نے راجستھان سے سات ممبران اسمبلی کو اسمبلی انتخابی ٹکٹ دیا تھا، جن میں سے دیا کماری، راجیہ وردھن سنگھ راٹھور، کیروری لال مینا اور بالک ناتھ جیت گئے تھے۔استعفیٰ دینے کے بعد دیا کماری نے بی جے پی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ جے پی نڈا سے ملاقات کے بعد انہوں نے مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست جیت کے لئے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

