کانگریس لیڈر ادت راج
نئی دہلی: دہلی کے سیلم پور علاقے میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد پیدا ہوئی کشیدگی اور کچھ خاندانوں کی طرف سے لگائے گئے ’یہ مکان بکاؤ ہے‘ جیسے پوسٹروں پر کانگریس لیڈر ادت راج نے کہا کہ یہ واقعہ ذاتی جھگڑا تھا، لیکن اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، ادت راج نے واضح کیا کہ اس طرح کے واقعات کو یک طرفہ نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ سچ یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دلت نقل مکانی کر رہے ہیں، جو بہت زیادہ وسیع اور گہرا سماجی مسئلہ ہے۔ جب معاشرہ تعلیم یافتہ نہ ہو تو ایسے رجحانات ابھرتے ہیں لیکن اسے فرقہ وارانہ چشمے سے دیکھنا خطرناک ہے۔
متھن چکرورتی کے بیان ’مغربی بنگال میں ہندو محفوظ نہیں ہیں‘ پر ادت راج نے سوال کیا کہ اگر بنگال میں ہندو محفوظ نہیں ہیں، تو خود متھن چکرورتی، جو وہیں رہ رہے ہیں، کیسے محفوظ ہیں؟ بنگال کے وزیر اعلیٰ سے لے کر پولیس افسران، تاجر اور میڈیا تک، ان میں سے زیادہ تر ہندو ہیں، پھر یہ خوف کس کا ہے؟
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ متھن چکرورتی جان بوجھ کر بھرم پھیلا رہے ہیں اور یہ گراوٹ حیران کن ہے۔ یہ سب انتخابی سازش کا حصہ ہے کیونکہ ہر بار الیکشن کے وقت ہی ہندو مسلم مسئلہ کو گرمایا جاتا ہے۔
ممتا بنرجی کے خلاف متھن کے ان الزامات پر کہ وہ وقف بورڈ ترمیمی ایکٹ کو لاگو نہیں ہونے دے رہی ہیں، ادت راج نے کہا کہ یہ وفاقی ڈھانچے کا ایک حصہ ہے اور کئی بار ریاستی حکومتیں اپنی مخالفت ظاہر کرنے کے لیے ایسا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متھن چکرورتی کو سیاسی سمجھ ہی نہیں ہے اور وہ صرف فن کی دنیا سے تعلق رکھنے والے شخص ہیں، وہ اب سیاست میں صرف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
ادت راج نے یہ بھی کہا کہ ملک میں اقلیتوں کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ملک کے چیف جسٹس، وزیر اعظم، چیف سیکرٹری، میڈیا مالک، کارپوریٹ سربراہ سبھی ہندو ہیں تو پھر مسلمانوں سے کس کو خطرہ ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان اپنی روزی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کا جینا مشکل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اور حکمراں جماعت ایک مخصوص نیرٹیو گڑھ کر ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

