Bharat Express DD Free Dish

Hindu-Muslim issue

آئی ایم سی آرکے چیئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی کوششوں سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل پرتبادلہ خیال کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں محمد ادیب کے علاوہ جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی، سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید، تلگانہ کے وزیراعلی کے مشیرمحمد علی شبیر، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان، مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد، درگاہ اجمیرکے گدی نشین سرورچشتی، سابق مرکزی وزیرعلی اشرف فاطمی، اے پی سی آر کے کنوینرندیم خان، آئی ایم سی آر کے جنرل سکریٹری محمد اعظم بیگ وغیرہ نے شرکت کی۔

ہندو فریق کا کہنا ہے کہ گیان واپی مسجد ان کا مندر ہے اور وہ اسے لے کر رہیں گے۔ اس کے بعد ہی کسی دیگر موضوع پر بات ہوسکتی ہے۔ دونوں فریق کی میٹنگ 20 منٹ کے اندر ہی بے نتیجہ رہی۔

سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست کے درمیان ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) کے نام سے منعقد ہو رہے لوک عدالت پروگرام کے لئے ان معاملوں کے فریق کو بھی نوٹس بھیجا تھا، لیکن سبھی نے نا اتفاقی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست تک منعقد ہونے والے ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) پروگرام کے لئے ان مقدمات کے فریقوں کو بھی نوٹس بھیجا تھا، تاہم سبھی نے ثالثی کے ذریعہ معاملے کو حل کرنے سے انکارکر دیا۔

اے پی سی آرنے واضح کیا کہ گرچہ قومی سلامتی اورسرحدی انتظام انتہائی اہم ہیں، تاہم تمام انتظامی اقدامات آئین ہند، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تنظیم کے مطابق قومی سلامتی اورشہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کئی اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا متاثرہ فریقین کوواقعی مؤثرسماعت کا موقع ملا؟

اتر پردیش کے ضلع فتح پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے جڑا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بنگلہ دیش میں ایک ہندو نوجوان کی مبینہ ماب لنچنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک قدیم مزار کو نشانہ بنایا۔

آئی ایم سی آر کی میٹنگ میں مسلمانوں کے گوناگوں مسائل، ان کے حل کے لئے تدبیر،مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک، ملک میں دلتوں، کمزور طبقوں کے ساتھ کئے جانے والے ناروا سلوک اور بہار میں بڑی تعداد میں ووٹ کاٹے جانے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

متھن چکرورتی کے بیان ’مغربی بنگال میں ہندو محفوظ نہیں ہیں‘ پر ادت راج نے سوال کیا کہ اگر بنگال میں ہندو محفوظ نہیں ہیں، تو خود متھن چکرورتی، جو وہیں رہ رہے ہیں، کیسے محفوظ ہیں؟ بنگال کے وزیر اعلیٰ سے لے کر پولیس افسران، تاجر اور میڈیا تک، ان میں سے زیادہ تر ہندو ہیں، پھر یہ خوف کس کا ہے؟