نئی دہلی: بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ترجمان سید شاہنواز حسین نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تیجسوی یادو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو اقتدار کے لائق ہیں اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لائق ہیں۔ آئی اے این ایس سے گفتگو میں شاہنواز نے کہا کہ تیجسوی یادو کا حالیہ انٹرویو ایک ’’پلانٹڈ انٹرویو‘‘ تھا جس میں انہوں نے بہانے بناتے ہوئے اپنی شکست کو چھپانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ انہیں لگتا تھا کہ ان کے پاس اکثریت ہے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ’’آدھی آبادی‘‘ ان کے خلاف تھی۔ شاہنواز کے مطابق آر جے ڈی کا دعویٰ کیا جانے والا ’’ایم وائی‘‘—یعنی مسلم-یادو—درحقیقت عوام کے درمیان خواتین اور نوجوانوں کے مضبوط اتحاد کے سامنے ناکام ہوگیا۔
’تیجسوی کی وجہ سے لوگوں کو جنگل راج کی واپسی کا خوف ستا رہا تھا‘
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ جیسے ہی تیجسوی یادو کے نام کا اعلان بطور وزیر اعلیٰ اُمیدوار ہوا، عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی کہ ’’جنگل راج پارٹ–2‘‘ لوٹ آئے گا۔ اسی وجہ سے لوگوں نے بی جے پی اور اس کے اتحادی اتحاد کو بھرپور حمایت دی۔ شاہنواز نے کہا کہ تیجسوی کو چاہیے تھا کہ شکست کو قبول کریں، نہ کہ ای وی ایم پر الزام لگائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آر جے ڈی کے اندر بھی تیجسوی کے رویے سے ناراضگی ہے۔ ’’جس طرح کرپوری ٹھاکر اور سشیل مودی اپوزیشن میں رہ کر موثر سیاست کرتے تھے، ویسے تیجسوی کو بھی سیکھنا چاہیے۔ لیکن وہ صرف راہل گاندھی کی نقل کر رہے ہیں‘‘۔
’راہل گاندھی کی طرح شکست کے بعد بیرون ملک چلے گئے‘
شاہنواز حسین نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ تیجسوی نے راہل گاندھی کی طرح صرف ٹی-شرٹ پہن لی ہے، باقی کچھ نہیں بدلا۔ ’’انتخابات ہارنے کے بعد ریاست میں رہ کر عوام کے درمیان جانا چاہیے تھا، لیکن وہ بھی راہل گاندھی کی طرز پر بیرون ملک چلے گئے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیجسوی یادو راہل گاندھی سے اس قدر متاثر ہیں کہ ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہی پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں۔
بابری مسجد بیان پر بھی ردعمل
ٹی ایم سی سے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر کے اس بیان پر کہ وہ بابری مسجد کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے، شاہنواز حسین نے کہا کہ ’’ہمایوں کبیر کو پہلے کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ یہ سب ممتا بنرجی کے اشارے پر ووٹ بینک کی سیاست کے تحت ہوا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کو بابَر کے نام سے جوڑنا درست نہیں، ’’ہمایوں کبیر کے خیالات بابَر جیسے ہیں، وہ سماج میں تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
’انڈیا الائنس کا وجود ختم ہو چکا‘
عمر عبداللہ کے تازہ بیان پر شاہنواز حسین نے اتفاق ظاہر کیا کہ ’’واقعی آج کے وقت میں انڈیا اتحاد کا کوئی وجود نہیں بچا ہے‘‘۔ بی جے پی ترجمان کے مطابق اپوزیشن نہ صرف بکھری ہوئی ہے بلکہ اس کے بڑے چہرے اپنی سیاسی ذمہ داری ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



