Bharat Express DD Free Dish

Babri masjid

ایودھیا کے دھنی پور میں مجوزہ مسجد منصوبے کو فنڈز کی کمی کے باعث محدود کر دیا گیا ہے۔ اب فی الحال صرف مسجد کی تعمیر کی جائے گی، جبکہ اسپتال، میوزیم، ریسرچ سینٹر اور کمیونٹی کچن جیسے منصوبوں کو مستقبل کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج کرے گا۔AIMPLB کا کہنا ہے کہ بھوج شالا کیس عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی 110 سیٹوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ سی اے اے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا، دراندازی کو روکا جائے گا۔ ساتھ ہی بنگال میں بابری مسجد بھی نہیں بننے دیں گے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغل حکمراں بابر یا بابری مسجد کے نام پر ملک میں کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی عرضی عدالتی مداخلت کے دائرہ کار میں نہیں آتی، جس کے بعد عرضی گزار نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

یوپی کے بارہ بنکی میں اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری ڈھانچہ کبھی دوبارہ نہیں بنے گا۔ ہندوستان میں رہنے والوں کوقانون کی پابندی کرنی چاہئے۔ قانون توڑنے والوں کوجہنم میں بھیجا جائے گا۔ یہ حکومت اپنے وعدے پورے کرتی ہے۔

شکایت درج ہونے کے بعد، شکتی پور پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم تفتیش کے لیے ہمایوں کبیر کے گھر پہنچی، جس کے بعد پولیس نے رابن کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق، پورا معاملہ زیرِ تفتیش ہے اور تمام پہلوؤں کی جانچ کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول تیزی سے گرم ہو گیا ہے۔ ترنمول کانگریس (TMC) کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر نے بابری مسجد کی تعمیر کا اعلان کر کے سیاسی ہلچل مچا دی ہے، جبکہ جنگی پور سے رکن اسمبلی ذاکر حسین نے شری کرشن مندر اور محمدی مسجد بنانے کے اعلان سے تنازع کو مزید ہوا دے دی ہے۔

مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد سرخیوں میں آئے ٹی ایم سی کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پارٹی نے نہ صرف ان کے سیاسی اتحاد کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا بلکہ اسے ’’سیاسی طور پر مشکوک‘‘ قرار دیا ہے۔

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں ’بابری مسجد‘ کی بنیاد رکھنے کے بعد ٹی ایم سی کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر خاصی سرخیوں میں ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا بی جے پی سے بھی گہرا تعلق رہا ہے؟

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ترجمان سید شاہنواز حسین نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تیجسوی یادو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو اقتدار کے لائق ہیں اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لائق ہیں۔