Bharat Express DD Free Dish

AIMIM Reject Humayun Kabir Alliance Offer : ہمایوں کبیر کا اسد الدین اویسی کو اتحاد کی پیشکش، مجلس اتحاد المسلمین نے کیا مسترد، ٹی ایم سی کے معطل رکن اسمبلی کو زوردار جھٹکا

مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد سرخیوں میں آئے ٹی ایم سی کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پارٹی نے نہ صرف ان کے سیاسی اتحاد کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا بلکہ اسے ’’سیاسی طور پر مشکوک‘‘ قرار دیا ہے۔

مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد سرخیوں میں آئے ٹی ایم سی کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو رکن پالیمنٹ اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پارٹی نے نہ صرف ان کے سیاسی اتحاد کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا بلکہ اسے ’’سیاسی طور پر مشکوک‘‘ قرار دیا ہے۔ گزشتہ دنوں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے ہمایوں کبیر پارٹی قیادت کے نشانے پر آگئے تھے۔ تنازع بڑھنے پر ٹی ایم سی نے انہیں پارٹی سے بے دخل کر دیا، جس کے بعد انہوں نے 22 دسمبر کو اپنا نیا سیاسی پلیٹ فارم بنانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران انہوں نے اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کی پیشکش بھی کر دی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ پیشکش مکمل طور پر خارج کر دی گئی۔

اے آئی ایم آئی ایم کا صاف انکار
اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان سید عاصم وقار نے پیر کے روز واضح کیا کہ جماعت ہمایوں کبیر کے ساتھ کسی بھی قسم کے انتخابی اتحاد پر غور نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ کبیر کا سیاسی ریکارڈ مشکوک ہے کیونکہ انہیں وسیع پیمانے پر بی جے پی کے سینئر لیڈر شوبھندو ادھیکاری اور پارٹی کے اعلیٰ قیادت کے ساتھ قریب سمجھا جاتا ہے۔ وقار نے کہا کہ عوامی سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق ہمایوں کبیر ادھیکاری کے سیاسی حلقے کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ادھیکاری بی جے پی کے قومی حکمت عملی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مسلم رائے دہندگان کی فکر کا حوالہ
وقار نے صاف کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کسی ایسی سیاست کا حصہ نہیں بنے گی جو اشتعال انگیزی یا تقسیم سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسلم کمیونٹی قوم سازی میں یقین رکھتی ہے، اسے توڑنے میں نہیں۔ یہ کمیونٹی ملک کو مضبوط کرنے والی قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان عناصر کو مسترد کرتی ہے جو انتشار پیدا کرتے ہیں‘‘۔

ٹی ایم سی سے اخراج کے بعد نئی سیاسی چال
ہمایوں کبیر کو گزشتہ ہفتے پارٹی قیادت سے لگاتار اختلافات کے بعد ٹی ایم سی سے نکا ل دیا گیا تھا۔ معطلی کے فوراً بعد انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی نئی پارٹی قائم کریں گے اور اے آئی ایم آئی ایم سمیت دیگر جماعتوں سے اتحاد کی بات چیت بھی کریں گے۔ مگر اے آئی ایم آئی ایم نے دو ٹوک جواب دے کر یہ واضح کر دیا کہ وہ کبیر کے ساتھ کوئی سیاسی راستہ مشترکہ طور پر اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے اس سخت مؤقف کے بعد ہمایوں کبیر کی نئی سیاسی کوششوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ اپنے مستقبل کے سیاسی سفر کو کس سمت لے جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read