Bharat Express DD Free Dish

CM Vijay Delimitation Bill Meeting: وزیراعلیٰ وجے کو بڑا جھٹکا، حد بندی پربلائی میٹنگ سے 37 اراکین پارلیمنٹ غائب

میٹنگ میں شامل نہ ہونے والے اراکین پارلیمنٹ کا الزام ہے کہ وجے حکومت کاویری جل تنازعہ جیسے اہم موضوع سے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لئے یہ سب کر رہی ہے۔ میٹنگ میں ڈی ایم کے کے 30، اے آئی اے ڈی ایم کے کے 4، پی ایم کے، ایم این ایم اورڈی ایم ڈی کے کے ایک ایک رکن نے شرکت نہیں کی۔

 تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایس. جوزف وجے نے مرکزکی مجوزہ حد بندی (Delimitation) کے عمل اوراس کے تمل ناڈوپرممکنہ اثرات پرتبادلۂ خیال کے لیے 8 اگست کوریاست کے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا، لیکن زیادہ تراراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ ریاست کے کل 57 اراکینِ پارلیمنٹ میں 39 لوک سبھا اور18 راجیہ سبھا کے اراکین ہیں۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں صرف 20 ارکان شریک ہوئے، جبکہ 37 اراکین نے اس سے دوری بنائے رکھی۔ سیاسی حلقوں میں اسے وزیراعلیٰ وجے کے لئے بڑا جھٹکا قراردیا جا رہا ہے۔

ڈی ایم کے سمیت 37 اراکین پارلیمنٹ نے میٹنگ کا کیا بائیکاٹ

میٹنگ میں شرکت کرنے والے زیادہ تراراکین کانگریس اوراس کی حلیف جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں کانگریس کے 12، وی سی کے کے 2، سی پی آئی کے 2، سی پی ایم کے 2، ایم ڈی ایم کے ایک اورآئی یوایم ایل کے ایک رکن شامل تھے۔ ڈی ایم کے نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ اس کے اراکین وزیراعلیٰ کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ کا بائیکاٹ کریں گے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، تمل ناڈوکے چیف سکریٹری ایم سائی کمارنے 6 اور7 اگست کواراکین پارلیمنٹ کوالگ الگ دعوت نامے بھیجے تھے۔

اجلاس میں ڈی ایم کے کے 30، اے آئی اے ڈی ایم کے کے 4، پی ایم کے، ایم این ایم اورڈی ایم ڈی کے کے ایک ایک رکن نے شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں شامل نہ ہونے والے اراکین کا الزام ہے کہ وجے حکومت کاویری آبی تنازع جیسے اہم مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے حد بندی کے معاملے کواٹھا رہی ہے۔ کاویری ندی کے پانی کی تقسیم سے متعلق کرناٹک اورتمل ناڈوکے درمیان کئی دہائیوں سے تنازعہ جاری ہے۔ حال ہی میں یہ معاملہ ایک بارپھراس وقت زیربحث آیا، جب کرناٹک حکومت نے کاویری ندی پرمیکیداتو پروجیکٹ بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ تمل ناڈواس منصوبے کی مخالفت کررہا ہے۔ وزیراعلیٰ وجے نے اس تنازع کو حل کرنے کے لئے دونوں ریاستوں کے درمیان براہ راست بات چیت کی تجویزپیش کی تھی۔

میکیداتوپرآل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، ڈی ایم کے ذرائع نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ پارٹی کے اراکین وزیراعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اسی وقت اس معاملے پربات چیت میں شامل ہوگی جب حکومت میکیداتومسئلے پرکل جماعتی اجلاس (آل پارٹی میٹنگ) طلب کرے گی۔ ڈی ایم کے کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے وزیراعلیٰ کی جانب سے اراکینِ پارلیمنٹ کو دعوت دینے کوہی غلط قدم قراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوسب سے پہلے سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کوبات چیت کے لیے بلانا چاہئے تھا۔ اراکینِ پارلیمنٹ کا کام اپنی پارٹی کے موقف کی پیروی کرنا ہے، اس لئے یہ اجلاس غیرضروری تھا۔

حد بندی کی مخالفت کریں گے: کانگریس

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ کیرتی چدمبرم نے کہا کہ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ نے لوک سبھا اورراجیہ سبھا، دونوں ایوانوں میں ریاست کی نمائندگی کرنے والے تمام اراکین کی میٹنگ بلائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 21 اراکین اجلاس میں شریک ہوئے اوراس بات پرمکمل اتفاق تھا کہ تمل ناڈو کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ کیرتی چدمبرم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تمل ناڈو کی نمائندگی کم نہیں کی جا سکتی۔ آبادی یا کسی بھی دوسرے معیارکی بنیاد پرنشستوں میں تبدیلی اورحد بندی کی مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ لوک سبھا کی مجموعی تعداد 543 ہی برقراررہے اورریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم بھی موجودہ نظام کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق 543 اراکین والی لوک سبھا میں تمل ناڈوکے 39 اراکین کی نمائندگی برقراررہنی چاہئے۔ کیرتی چدمبرم نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف واضح ہے کہ بڑی پارلیمنٹ مؤثرثابت نہیں ہوگی اوراس سے تمل ناڈو کے مفادات کونقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لئے ریاست کے لئے لوک سبھا کی 39 نشستوں کی موجودہ نمائندگی برقراررکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔