Bharat Express DD Free Dish

Shashi Tharoor Praises PM Modi: مالدیپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر ششی تھرور نے مودی حکومت کی سفارت کاری کو سراہا

ششی تھرور کے مطابق بھارت نے اس نازک وقت میں کسی سیاسی اختلاف کو اہمیت دیے بغیر فوری طور پر لاکھوں لیٹر پینے کا پانی مالدیپ بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس امداد کے بدلے کوئی شرط عائد نہیں کی اور یہی وہ طرز عمل ہے جو حقیقی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ عملی تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔

نئی دہلی: ہندوستانی سیاست میں جہاں عموماً حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، وہیں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب اپوزیشن کے کسی لیڈر کا بیان سیاسی حلقوں میں غیر معمولی بحث چھیڑ دیتا ہے۔ اس بار کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کا ایک بیان سرخیوں میں ہے، جس میں انہوں نے مالدیپ کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں بہتری کو ایک کامیاب سفارتی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ ان کے بیان کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی بالواسطہ تعریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ششی تھرور نے امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے ٹفٹس یونیورسٹی میں فلیچر اسکول میں خطاب کے دوران مالدیپ کے ساتھ بھارت کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد صرف تقاریر سے قائم نہیں ہوتا بلکہ مشکل وقت میں مدد کرنے سے مضبوط ہوتا ہے۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں تھرور نے ”انڈیا آؤٹ“ مہم سے لے کر پانی کے بحران تک کا پورا واقعہ بیان کیا، جس کے بعد ان کا بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔

تھرور نے کہا کہ نومبر 2023 میں ڈاکٹر محمد معیزو کے مالدیپ کا صدر بننے کے بعد وہاں بھارت مخالف ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران ”انڈیا آؤٹ“ نعرہ کافی مقبول ہوا اور نئی حکومت نے بعض بھارتی اہلکاروں کی واپسی اور بھارت کے ساتھ ہوئے کچھ معاہدوں پر نظرثانی کی بات بھی کہی تھی۔ اس دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد مالدیپ کے چند لیڈروں کی سوشل میڈیا پوسٹس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا تھا۔ ان بیانات کے بعد دونوں ملکوں کے عوامی اور سفارتی تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا تھا۔ تاہم اسی دوران مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں پانی صاف کرنے والا اہم ڈیسالینیشن پلانٹ خراب ہو گیا، جس کے باعث پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا۔

ششی تھرور کے مطابق بھارت نے اس نازک وقت میں کسی سیاسی اختلاف کو اہمیت دیے بغیر فوری طور پر لاکھوں لیٹر پینے کا پانی مالدیپ بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس امداد کے بدلے کوئی شرط عائد نہیں کی اور یہی وہ طرز عمل ہے جو حقیقی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ عملی تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی بروقت مدد کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں آہستہ آہستہ بہتری آنا شروع ہوئی۔ بعد ازاں جولائی 2025 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ مالدیپ کے دوران صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے بھارت کو مالدیپ کا سب سے قریبی اور قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا تھا۔ اس ملاقات کے دوران تجارت، سلامتی، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ششی تھرور کا یہ بیان خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ اپوزیشن جماعت کانگریس کے اہم لیڈر ہیں اور ماضی میں کئی مواقع پر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی جانب سے مالدیپ کے معاملے میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی کی تعریف کو ایک اہم سیاسی اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔ تھرور نے اپنے خطاب میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ سفارت کاری میں بعض اوقات مشکل وقت میں دی گئی مدد سب سے مؤثر پیغام ثابت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے مالدیپ کے بحران کے دوران جو کردار ادا کیا، اس نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں اعتماد کی نئی بنیاد قائم کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read