Bharat Express DD Free Dish

Allahabad High Court decision on Hijab Issue: حجاب پرالہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سلمان خورشید نے دیا سپریم کورٹ کا حوالہ، جانئے پورا معاملہ

سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مذہبی عمل کتنا ضروری ہے۔ صرف یہ طے کرنا ہے کہ ایک فرد کے بنیادی حقوق کیا ہیں، وہ کیا لباس پہننا چاہتا ہے، کیا کھانا چاہتا ہے، کہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اورکس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے اسکول میں مسلم طالبات کوحجاب یا اسکارف پہننے کی اجازت دینے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے ایک مسلم طالبہ کی جانب سے دائردرخواست کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکولرازم کے لئے اسکولوں میں یونیفارم کا ہونا ضروری ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آرہا ہے۔ سابق مرکزی وزیر خارجہ اورکانگریس کے سینئرلیڈرسلمان خورشید نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پراپنی رائے کا اظہارکرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں پہلے ہی کچھ اہم باتیں واضح کرچکا ہے اورآئندہ حتمی فیصلہ بھی سپریم کورٹ ہی کرے گا۔

سلمان خورشید نے کہا، ’’سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مذہبی عمل کتنا ضروری ہے۔ صرف یہ طے کرنا ہے کہ ایک فرد کے بنیادی حقوق کیا ہیں، وہ کیا لباس پہننا چاہتا ہے، کیا کھانا چاہتا ہے، کہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اورکس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے پرپہلے ہی اپنا موقف ظاہرکرچکا ہے اوریہ بھی کہا تھا کہ معاملے کوبڑی بنچ کے سامنے بھیجا جائے گا۔ سلمان خورشید کے مطابق، ’’مجھے نہیں لگتا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا موجودہ فیصلہ زیادہ مؤثرہوگا۔ سپریم کورٹ اس معاملے پرکچھ اشارے دے چکا ہے اورآگے جوبھی فیصلہ ہوگا، وہ سپریم کورٹ کا ہوگا۔‘‘

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ معاملہ پریاگ راج کی ایک طالبہ سکینہ رضوی سے متعلق ہے۔ سکینہ رضوی نے اپنی والدہ کے ذریعہ الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائرکی تھی۔ درخواست میں عدالت سے اسکول میں اسکارف یا حجاب پہننے کی اجازت دینے کے لیے ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 21 اگست کواس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں عقیدے کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرکوئی خاتون حجاب نہیں پہنتی تواس سے اس کے مذہبی عقیدے کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ عدالت نے اسکول یونیفارم کی اہمیت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں یکساں لباس کا مقصد طلبہ کے درمیان مساوات اورسیکولرماحول کوبرقراررکھنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read