Bharat Express DD Free Dish

Salman Khurshid

سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی مذہبی عمل کتنا ضروری ہے۔ صرف یہ طے کرنا ہے کہ ایک فرد کے بنیادی حقوق کیا ہیں، وہ کیا لباس پہننا چاہتا ہے، کیا کھانا چاہتا ہے، کہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اورکس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

مباحثے کے مرکز میں اسٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کی طویل زیرِحراست مدت بھی رہی، جوفروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتارکئے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں پر فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردارادا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا۔ 7 جولائی کو قُم میں خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ 9 جولائی کو ان کے آبائی اور مقدس شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوگا۔

اس پروگرام میں ملک بھرکے قانونی ماہرین، سابق منتظمین اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اسلم احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک میں ہونے والی انتخابی اصلاحات پراپنے خیالات کا اظہارکیا۔ اے آئی ای ایم کے جنرل سکریٹری عبد الرشید نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

یہ کانفرنس انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جہاں مختلف موضوعات پر علمی نشستیں اور مکالمے ہوئے۔ مقررین نے موجودہ دور میں تاریخ کی غلط تشریحات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے ماضی کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، جس سے سماج میں غلط فہمیاں اور نفرت کو فروغ مل رہا ہے۔

انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام نیشنل ہسٹری کانفرنس میں کئی معروف شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جن میں سلمان خورشید ، پروفیسر انیتا رام پال ،پروفیسر این سکمار، پروفیسر سلیم انجینئر ، ڈاکٹر رام پونیانی، عبد السلام پوتگے، ایس ایم عزیزالدین حسینی، ڈاکٹر اشتیاق حسین ، شاہد صدیقی اور پروفیسر اجے گوڈاورتی وغیرہ شامل ہیں۔

سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید نے امریکہ-ایران مذاکرات سے متعلق کہا کہ یہ بات چیت اگرناکام ہوئی تو صورتحال خراب ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پھر سے کوئی جنگ نہ ہو، بلکہ امن برقرار رہے۔ تاہم بدقسمتی سے جو کردارہمیں نبھانا چاہئے تھا کہ ہم امن کے سفیرہیں اور دنیا کو اچھے مشورے دیتے ہیں۔

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرمیں ڈبلیو بی ایس فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپریوپی کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے شرکت کی۔ ہندی کتاب کا اجرا اکھلیش یادوکے ہاتھوں کیا گیا جبکہ اردوکتاب کا اجرا اترپردیش کے سابق کارگزاراعلیٰ ڈاکٹرعمری رضوی کے دست مبارک سے ہوا۔ اس موقع پرسابق مرکزی وزیر اورانڈیا اسلامک کلچرل سینٹرکے صدرسلمان خورشید، کانگریس ایم پی اورسپریم کورٹ کے سینئروکیل ایڈوکیٹ ابھیشیک منوسنگھوی، سابق چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن وسابق رکن لاکمیشن آف انڈیا پروفیسر طاہرمحمود موجود رہے اورخطاب کیا۔

آئی۔ ایم۔ سی۔ آر کے فاؤنڈر ٹرسٹی اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کو ملک کے ممتاز دانشوروں نے نشان امتیاز اور شال اوڑھا کر پیش کیا خراج تحسین۔ کانگریس پارٹی کوآبادی کے تناسب سے مناسب نمائندگی دینے کاوعدہ بھی دوہرایا۔