Bharat Express

Provident Fund boost: ساڑھے سات کروڑ ہندوستانیوں کے لیے پراویڈنٹ فنڈ میں اضافہ!حکومت پی ایف نکالنے کی حد کو 5 لاکھ روپے تک بڑھائے گی

حالیہ برسوں میں، ای پی ایف او نے اپنے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور کلیم سیٹلمنٹ کے عمل کو تیز کرنے پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔ اسی سلسلے میں، آٹو سیٹلمنٹ کی حد کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ممبروں کو ایمرجنسی حالات میں اپنے فنڈز تک فوری رسائی مل سکے۔

بھارت کی حکومت نے 7.5 کروڑ سے زائد پراویڈنٹ فنڈ (PF) ممبروں کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ای پی ایف او (Employees’ Provident Fund Organisation) نے ایڈوانس کلیمز کے لیے آٹو سیٹلمنٹ کی حد کو موجودہ 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ فیصلہ سینٹرل بورڈ آف ٹرسٹیز (CBT) کی حتمی منظوری کے بعد نافذ ہوگا، اور اس سے بھارت کے کروڑوں ملازمین کو فائدہ پہنچے گا۔ ای پی ایف او بھارت کا ایک اہم ادارہ ہے جو ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کا انتظام کرتا ہے، اور اس کے تحت 7.5 کروڑ سے زائد فعال ممبرز ہیں۔ یہ ادارہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے لیے بچت کا ایک محفوظ ذریعہ فراہم کرتا ہے، اور وقتاً فوقتاً ان کے فنڈز تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات لاتا رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ای پی ایف او نے اپنے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور کلیم سیٹلمنٹ کے عمل کو تیز کرنے پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔ اسی سلسلے میں، آٹو سیٹلمنٹ کی حد کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ممبروں کو ایمرجنسی حالات میں اپنے فنڈز تک فوری رسائی مل سکے۔

آٹو سیٹلمنٹ کی حد میں اضافہ

ای پی ایف او نے ایڈوانس کلیمز کے لیے آٹو سیٹلمنٹ کی حد کو 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ممبرز اب 5 لاکھ روپے تک کے ایڈوانس کلیمز بغیر کسی دستی مداخلت کے خودکار طور پر حاصل کر سکیں گے۔ یہ سہولت ان مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جن میں بیماری/ہسپتال میں داخلہ، رہائش، تعلیم، اور شادی شامل ہیں۔ اس فیصلے سے خاص طور پر ان ملازمین کو فائدہ ہوگا جو مالی مشکلات کا شکار ہیں یا ایمرجنسی حالات میں فوری رقم کی ضرورت رکھتے ہیں۔

موجودہ اعداد و شمار

رواں مالی سال (2024-25) میں، ای پی ایف او نے 6 مارچ 2025 تک ریکارڈ 2.16 کروڑ آٹو کلیمز سیٹل کیے ہیں، جو کہ گزشتہ سال (2023-24) کے 89.52 لاکھ کلیمز سے کافی زیادہ ہیں۔

کلیم مسترد ہونے کی شرح بھی کم ہو کر 50 فیصد سے 30 فیصد پر آ گئی ہے، جو نظام کی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔

تصدیقی عمل (validation formalities) کو 27 سے کم کر کے 18 کر دیا گیا ہے، اور منصوبہ ہے کہ اسے مزید کم کر کے 6 تک لایا جائے۔

سیٹلمنٹ کا وقت

آٹو سیٹلمنٹ کے عمل کو مکمل طور پر آئی ٹی پر مبنی بنایا گیا ہے، جس سے انسانی مداخلت ختم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے کلیم سیٹلمنٹ کا وقت 10 دنوں سے کم ہو کر 3-4 دنوں تک آ گیا ہے۔ یہ بھارت کے کروڑوں ملازمین کے لیے ایک بڑی سہولت ہے، کیونکہ اب وہ اپنے فنڈز تک تیزی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یو پی آئی پر مبنی واپسی

ای پی ایف او مئی یا جون 2025 تک یو پی آئی (Unified Payments Interface) پر مبنی پراویڈنٹ فنڈ واپسی کا نظام متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سے ممبرز اپنے فنڈز کو فوری طور پر اپنے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر سکیں گے، اور اس عمل میں چند منٹ یا چند گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ سیکریٹری سمیتا داؤرا کے مطابق، اس نئے نظام سے ممبرز اپنے ای پی ایف او اکاؤنٹس کو براہ راست یو پی آئی انٹرفیس پر دیکھ سکیں گے اور آٹو کلیمز کے ذریعے فوری منظوری حاصل کر سکیں گے۔

اس سہولت کے فوائد یہ ہیں:

ممبرز 1 لاکھ روپے تک کے کلیمز فوری طور پر واپس لے سکیں گے۔

وہ اپنی پسند کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر سکیں گے۔

یہ سہولت مستقبل میں جنرل پراویڈنٹ فنڈ (GPF) اور پبلک پراویڈنٹ فنڈ (PPF) جیسے دیگر اسکیموں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے ای پی ایف او کے لیے یو پی آئی فریم ورک فراہم کیا ہے، اور توقع ہے کہ یہ نظام اگلے چند مہینوں میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

ای پی ایف او کی حالیہ اصلاحات

ای پی ایف او نے گزشتہ چند سالوں میں اپنے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

آٹو کلیم سیٹلمنٹ کی توسیع: آٹو موڈ میں پروسیسنگ کے لیے ایڈوانس کلیمز کی حد کو بڑھانے کے علاوہ، اب رہائش، تعلیم، اور شادی کے لیے ایڈوانس کلیمز بھی آٹو موڈ کے ذریعے پروسیس کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال، 60 فیصد ایڈوانس کلیمز آٹو موڈ میں پروسیس ہو رہے ہیں۔

آن لائن کلیمز: ای پی ایف او اب 99.31 فیصد کلیمز آن لائن موصول کر رہا ہے، جس سے فیلڈ آفسز میں جانے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ 2024-25 میں 6 مارچ تک 7.14 کروڑ کلیمز آن لائن دائر کیے گئے۔

سادہ تصحیح کا عمل: ممبرز اب اپنے یو اے این (UAN) کے ذریعے آدھار سے تصدیق شدہ شناخت میں خود ترمیم کر سکتے ہیں، بغیر ای پی ایف او کی مداخلت کے۔ فی الحال، 96 فیصد ترامیم بغیر کسی ای پی ایف آفس کی مداخلت کے ہو رہی ہیں۔

پی ایف ٹرانسفر میں آسانی: آدھار سے تصدیق شدہ یو اے این کے حامل ممبروں کے لیے پی ایف ٹرانسفر کے عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے، اور اب اس کے لیے آجر کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔

ای پی ایف او 3.0 اور مستقبل کے منصوبے

ای پی ایف او اپنے نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے “ای پی ایف او 3.0” کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس کے تحت، ممبر ڈیٹا بیسز کو CITES 2.01 کے تحت مرکزی بنایا جا رہا ہے، جس سے کلیم سیٹلمنٹ کا عمل مزید آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ، ای پی ایف او نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی ہے تاکہ ادارے کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔ لیبر سیکریٹری سمیتا داؤرا نے کہا کہ یہ اصلاحات وزیراعظم نریندر مودی کے “ایز آف لیونگ” کے وژن کے مطابق ہیں، جو ملازمین اور آجروں کے لیے سماجی تحفظ کے عمل کو آسان بنانے اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے پر زور دیتے ہیں۔

معاشی اثرات

اس فیصلے کے کئی معاشی اثرات ہو سکتے ہیں:

مالی رسائی میں اضافہ: 5 لاکھ روپے تک کی آٹو سیٹلمنٹ کی حد سے ملازمین کو ایمرجنسی حالات میں فوری مالی مدد ملے گی، جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرے گی۔

مصرف میں اضافہ: یہ رقم گھریلو مصرف کو بڑھا سکتی ہے، جو بھارت کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا، خاص طور پر موجودہ عالمی معاشی سست روی کے تناظر میں۔

ڈیجیٹل معیشت کو فروغ: یو پی آئی پر مبنی واپسی سے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ ملے گا، جو بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کے اہداف کے مطابق ہے۔

تنقیدی جائزہ

اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر ملازمین کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن کچھ سوالات اور چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں:

نظام کی صلاحیت: ای پی ایف او کے آئی ٹی سسٹم پر اچانک بوجھ بڑھنے سے کیا نظام اس اضافی دباؤ کو برداشت کر پائے گا؟ خاص طور پر جب 7.5 کروڑ ممبروں میں سے بڑی تعداد بیک وقت کلیمز دائر کرے۔

دھوکہ دہی کا خطرہ: آٹو سیٹلمنٹ کے عمل کو مکمل طور پر خودکار بنانے سے دھوکہ دہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ای پی ایف او کو اس کے لیے مضبوط تصدیقی میکانزم بنانے کی ضرورت ہے۔

طویل مدتی بچت پر اثر: اگرچہ فوری رسائی ایک فائدہ ہے، لیکن اس سے نوجوان ممبروں میں اپنے مکمل فنڈز نکالنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے، جو ان کی طویل مدتی بچت اور ریٹائرمنٹ پلاننگ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ای پی ایف او کو اس حوالے سے ممبروں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

بینکوں پر دباؤ: یو پی آئی پر مبنی واپسی سے بینکوں پر لین دین کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اگر بڑی تعداد میں ممبرز بیک وقت رقم نکلوائیں۔

ای پی ایف او کا آٹو سیٹلمنٹ کی حد کو 5 لاکھ روپے تک بڑھانے اور یو پی آئی پر مبنی واپسی کا فیصلہ 7.5 کروڑ بھارتی ملازمین کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی مالی رسائی بہتر ہوگی بلکہ ای پی ایف او کے نظام کی کارکردگی بھی بڑھے گی۔ تاہم، اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں، جیسے کہ دھوکہ دہی کا خطرہ اور طویل مدتی بچت پر ممکنہ اثرات، جن پر ای پی ایف او کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر طریقے سے نافذ ہو جاتا ہے، تو یہ بھارت کے ملازمین کے لیے “ایز آف لیونگ” کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read