نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی شب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مشکل گھڑی میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہر طرح کی دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اماراتی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حملوں میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملے نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔
Spoke with President of the UAE, my brother Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. Strongly condemned the attacks on the UAE and condoled the loss of lives in these attacks. India stands in solidarity with the UAE in these difficult times.
Thanked him for taking care of the Indian…
— Narendra Modi (@narendramodi) March 1, 2026
بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے امارات میں مقیم بھارتی برادری کی سلامتی کو یقینی بنانے پر اماراتی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں رہنے والے لاکھوں بھارتی شہری دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت ہیں اور ان کی حفاظت دونوں حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری اور ترجیح ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران اماراتی علاقوں پر مبینہ طور پر ایران سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ ایک بھارتی شہری سمیت 58 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں تیز ہو گئی ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں لیڈروں نے مستقبل میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور بدلتی صورتحال پر مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔ ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں جاری تناؤ کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی بات کہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

