نئی دہلی: قومی دارالحکومت نئی دہلی میں جمعرات کے روز ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روسی وزیر خارجہ دو روزہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر موجود ہیں۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں بھارت اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون اور اس کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دفاع، توانائی، خلائی ٹیکنالوجی، تجارت اور سائنسی شعبوں میں بڑھتے ہوئے اشتراک پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور آنے والے برسوں میں اسے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے وزیر اعظم مودی کو دونوں ممالک کے درمیان جاری مختلف منصوبوں اور تعاون سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ گزشتہ برس ہونے والے بھارت۔روس سالانہ سربراہ اجلاس کے بعد دوطرفہ تعلقات میں مزید تیزی دیکھی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مستقل رابطے اور اعلیٰ سطحی تبادلوں نے باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ملاقات کے دوران صرف دوطرفہ تعلقات ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی اہم اور حساس مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر یوکرین بحران اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے تناظر میں امن کے قیام اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقوں کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ مسائل کا حل جنگ کے بجائے پرامن ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم مودی نے ملاقات کے دوران اس بات کو بھی دہرایا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ کے معاملے میں بھارت متوازن اور غیر جانبدارانہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ترجیح عالمی امن اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔ سیاسی مبصرین اس ملاقات کو بھارت اور روس کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی ایک اہم کڑی قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داری مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


