Bharat Express DD Free Dish

BRICS 2026

وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں ایک دوسرے کے بنیادی خدشات کے تئیں حساسیت، باہمی احترام اور باہمی مفادات کو تعلقات کی بنیاد قرار دیا

برکس کی مشترکہ کرنسی شروع کرنے کی فی الحال کوئی تجویز نہیں، مقامی کرنسی میں تجارت اور ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے پر مسلسل بات چیت جاری: وزارت خارجہ

برکس سربراہی اجلاس 2026 کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی ایک ساتھ سامنے آنے والی تصویر نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ تینوں رہنماؤں کی اس تصویر کو سفارتی اور سیاسی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

برکس کے نئی دہلی اعلامیے میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس نے اپنے قیام کے 20 برس مکمل کر لیے ہیں اور اب یہ تنظیم ’پختگی کے دور‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگلی دو دہائیوں کے لیے ایک نیا اور پرعزم ایجنڈا تیار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

برکس تنظیم کا بڑھتا دائرہ مغربی ممالک کے اقتصادی غلبے اور پابندیاں عائد کرنے کی طاقت کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے، جس سے عالمی سیاست اور معیشت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ آج دنیا جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان حالات نے ممالک کے لیے اقتصادی ماحول کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کا جواب برکس کے پاس موجود ہے۔

وزیر اعظم مودی نے برکس کی اقتصادی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کے ممالک مل کر دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عالمی جی ڈی پی میں ان کی حصہ داری تقریباً 40 فیصد اور دنیا کی مجموعی تجارت میں 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے اعداد و شمار کا موازنہ بھی کیا۔ وزیر اعظم کے مطابق اس عرصے میں عالمی جی ڈی پی تقریباً ڈھائی گنا بڑھی، جبکہ برکس ممالک کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً ساڑھے چار گنا بڑھ گئی۔

سکیورٹی انتظامات کو بہتر انداز میں برقرار رکھنے کے لیے پوری دہلی کو مختلف سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر سیکٹر کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے افسران کو سونپی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس سے متعلق خبر کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ پہلے ہی تصدیق کرچکی ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کوبرکس اجلاس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، جسے غوروخوض کے لئے وزیراعظم کے دفتربھیج دیا گیا ہے۔