نئی دہلی: ملک کی سپریم کورٹ میں سیاسی احتجاج اور حالیہ مارچ کو لے کر قانونی بحث تیز ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے سپریم کورٹ کے احاطے کے باہر حال ہی میں نکالے گئے احتجاجی مارچ اور ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملات پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دونوں فریقوں سے جواب طلب کیا ہے اور سپریم کورٹ کے احاطے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی سخت ہدایت بھی دی ہے۔
راہل گاندھی سمیت کئی لیڈروں کے خلاف درخواست
سپریم کورٹ کی جانب نکالے گئے حالیہ سیاسی مارچ کے سلسلے میں کئی لیڈروں کے خلاف مجرمانہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواستیں عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ ان درخواستوں میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت کئی بڑے لیڈروں کے نام شامل ہیں۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل گورو بھاٹیہ نے عدالت میں دلیل دی کہ کسی بھی سیاسی جلوس یا اس طرح کے پروگرام سے سپریم کورٹ کے وقار پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ سپریم کورٹ کو کوئی بھی ڈرا یا دھمکا نہیں سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت احاطے کے اندر اور باہر ہونے والی ہر سرگرمی سے پوری طرح واقف ہے اور کوئی بھی خیالی دنیا میں نہیں رہ رہا ہے۔ تاہم، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ معاملے میں فیصلہ سنانے سے پہلے درخواست گزاروں میں سے ایک کو اپنے طرز عمل کی وضاحت دینی ہوگی۔
صحافیوں کی حفاظت سے متعلق اہم ہدایات
سماعت کے دوران عدالت نے احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حفاظت پر بھی اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ ایک خاتون صحافی کی جانب سے درج کرائی گئی چھیڑ چھاڑ کی شکایت پر غور کیے جانے تک ان کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ بنچ نے کہا کہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ آزادی اظہار کے حق کا بھی استعمال کرتے ہیں، اس لیے انہیں مناسب تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تشویش ظاہر کی کہ موبائل فون اور ریلز کے اس دور میں حقیقی اور تسلیم شدہ صحافیوں کی شناخت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




