اجیت پوارکے انتقال کے بعد پارٹی میں قیادت اورتنظیمی ڈھانچے سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دہلی میں 6 سینئرلیڈران کی مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کے دوران سنیترا پواراوران کے بیٹے پارتھ پوارکی غیر موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔ اجیت پوارکے انتقال کے بعد نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں جاری سیاسی رسہ کشی کی خبریں ایک بارپھرسرخیوں میں ہیں۔ پارٹی کے اندرسینئررہنماؤں کی ناراضگی، سنیترا پوارکی قیادت، ان کے بیٹوں پارتھ اورجے پوارکا بڑھتا ہوا کرداراورشرد پوارگروپ کے ساتھ انضمام کے معاملے پرنئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
پیرکے روزپارٹی کے 6 سینئرلیڈران نے دہلی میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ اس وفد میں پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، دلیپ ولسے پاٹل، حسن مشرف، چھگن بھجبل اوردھننجے منڈے شامل تھے۔ تاہم اس ملاقات میں سنیترا پواراوران کے بیٹے پارتھ پوارموجود نہیں تھے۔ دوسری جانب پارٹی نے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام لیڈران سنیترا پوار کی قیادت میں متحد ہیں۔ پارٹی نے شرد پوارگروپ کے ساتھ انضمام کے امکان کوبھی خارج کردیا ہے۔ اس دوران سنیترا پوارنے اپنے اراکین اسمبلی کی ایک میٹنگ بھی طلب کی ہے۔
اجیت پوارکے بعد این سی پی میں قیادت کی جنگ؟
اجیت پوارکے انتقال کے بعد مہاراشٹرکی سیاست میں این سی پی کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات اٹھنے لگے تھے۔ 28 جنوری 2026 کوبارامتی میں ہوئے طیارہ حادثے میں اجیت پوارکا انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے جانے کے بعد پارٹی کے سامنے قیادت اورتنظیم کوسنبھالنے کا بڑا چیلنج کھڑا ہوگیا۔ بعد ازاں ان کی اہلیہ سنیترا پوارکومہاراشٹرکا نائب وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ 26 فروری کوپارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں انہیں اتفاق رائے سے این سی پی کا قومی صدربھی منتخب کرلیا گیا۔ دوسری طرف پارتھ پوارکوراجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ پرفل پٹیل قومی کارگزارصدراورسنیل تٹکرے مہاراشٹراین سی پی کے ریاستی صدرکی ذمہ داری سنبھالتے رہے۔ تاہم اجیت پوارکے بعد پارٹی میں طاقت کے توازن سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔ سنیترا پوارکے ساتھ ان کے بیٹوں پارتھ اورجے پوارکا تنظیم میں بڑھتا ہوا کردار بھی سینئررہنماؤں کے درمیان بے چینی کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ مئی میں پارٹی عہدیداروں کی فہرست سے متعلق بھی تنازع سامنے آیا تھا۔ اس فہرست میں پارتھ اورجے پوارکواہم ذمہ داریاں دی گئی تھیں، جبکہ پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، چھگن بھجبل اوردلیپ ولسے پاٹل جیسے سینئرلیڈران کے نام اہم عہدوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔ اس کے بعد پارٹی میں سینئرلیڈران کے کرداراورقیادت کے اختیارات سے متعلق قیاس آرائیاں تیزہوگئی تھیں۔
امت شاہ سے 6 بڑے رہنماؤں نے ملاقات کیوں کی؟
این سی پی میں اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان پیریعنی 2 نومبرکوپارٹی کے 6 سینئرلیڈران نے دہلی میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ اس وفد میں پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، دلیپ ولسے پاٹل، حسن مشرف، چھگن بھجبل اوردھننجے منڈے شامل تھے۔ اس ملاقات میں سنیترا پواراوران کے بیٹے پارتھ پوارکی عدم موجودگی نے سیاسی حلقوں میں بحث کومزید تیزکردیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ رہنماؤں نے پارٹی کے موجودہ کام کاج، تنظیمی معاملات اورمستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اپنی بات رکھی۔ اس دوران این سی پی کے ریاستی صدرسنیل تٹکرے نے کہا کہ دہلی میں یہ ملاقات پہلے سے طے تھی اورپارٹی میں کسی طرح کی ناراضگی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پارٹی کے تمام لیڈران سنیترا پوارکی قیادت میں متحد ہیں۔
انضمام کی بحث ناراضگی کی بڑی وجہ؟
این سی پی کے دونوں گروپوں کے انضمام کی بحث بھی اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔ سال 2023 میں اجیت پوارنے اپنے چچا شرد پوارسے الگ ہوکربی جے پی اورشیوسینا کی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد این سی پی دوگروپ میں تقسیم ہوگئی تھی۔ اجیت پوارکی قیادت والا گروپ مہاراشٹرکی مہایتی حکومت کا حصہ بنا، جبکہ شرد پوار کا گروپ اپوزیشن میں رہا۔ اجیت پوارکے انتقال سے پہلے دونوں گروپوں کودوبارہ متحد کرنے کی کوششیں تیزہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ شرد پوارگروپ کے لیڈران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اجیت پواراورجینت پاٹل کے درمیان بات چیت ہوئی تھی اوردونوں گروپوں کے انضمام کی سمت میں پیش رفت ہو رہی تھی۔ تاہم اجیت پوارکے انتقال کے بعد یہ عمل رک گیا۔ شرد پوارگروپ کے رہنماؤں نے انضمام کی بات چیت کی حمایت کی، جبکہ پرفل پٹیل اورسنیل تٹکرے نے اس معاملے پرالگ موقف اختیارکیا۔ مئی میں شرد پوارگروپ کے ریاستی صدرششی کانت شندے نے کہا تھا کہ ان کی جانب سے انضمام کا معاملہ اب ختم ہوچکا ہے اورپارٹی اپوزیشن کے طورپراپنا کردارمضبوط کرے گی۔ اب 2 نومبرکی دہلی ملاقات کے بعد ایک بارپھردونوں گروپوں کے انضمام کی بحث شروع ہوگئی۔ رپورٹس کے مطابق سینئرلیڈران نے امت شاہ کے سامنے دونوں گروپوں کے انضمام اوراین ڈی اے میں ساتھ رہنے کا متبادل بھی رکھا۔ تاہم ملاقات کے بعد این سی پی نے واضح کیا کہ شرد پوارگروپ کے ساتھ انضمام کا کوئی سوال نہیں ہے۔
انضمام ہوا توپارٹی کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی؟
دونوں گروپوں کے ایک ہونے کی بحث کے ساتھ سب سے بڑا سوال پارٹی کی قیادت سے متعلق ہے۔ اگراین سی پی کے دونوں گروپوں کا انضمام ہوتا ہے توپارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہوگی؟ کیا شرد پواردوبارہ پارٹی کی مرکزی قیادت کا کردارادا کریں گے؟ کیا سنیترا پوارکوتنظیم میں موجودہ حیثیت حاصل رہے گی؟ ساتھ ہی پرفل پٹیل اورسپریا سولے کا کردارکیا ہوگا؟ شرد پواراین سی پی کے بانی ہیں اورمہاراشٹرکی سیاست میں انہیں طویل تجربہ حاصل ہے۔ ان کی بیٹی سپریہ سولے بھی شرد پوار دھڑے کی اہم رہنماؤں میں شامل
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

