Bharat Express DD Free Dish

اردو زبان کبھی نہیں مرے گی، آج کی نوجوان نسل کے دلوں کی بن چکی ہے دھڑکن، بہارکے گورنر عارف محمد خان نے سہ روزہ سیمینار کے افتتاحی تقریب میں کہی یہ بڑی بات

’اردوزبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظرمیں‘ کے عنوان سے قومی اردوکونسل کے سہ روزہ سمینارکا افتتاح کیا گیا۔ ڈائریکٹر شمس اقبال نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیرمیں تمام ہندوستانی زبانوں کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔

قومی اردو کونسل کے سہ روزہ سمینار بعنوان: 'اردو زبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظر میں' افتتاح کیا گیا۔

پٹنہ/نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے سہ روزہ قومی سمیناربعنوان ‘اردوزبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظر میں’ کا باپو ٹاورگردنی باغ ، پٹنہ کے آڈیٹوریم میں آج پروقارافتتاح عمل میں آیا۔ افتتاحی اجلاس کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے اورشمع افروزی کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد تمام مہمانوں کا شال پوشی اورکتابوں کا ہدیہ پیش کرکے استقبال کیا گیا۔ اس اجلاس میں بطورمہمان خصوصی وصدرخطاب کرتے ہوئے بہارکے گورنرعارف محمد خان نے کہا کہ اردوزبان میں فطری طورپرایسی قوت موجود ہے کہ وہ مستقبل میں پوری تابناکی کے ساتھ زندہ رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی زبان محض حکومت کی مہربانیوں سے زندہ نہیں رہ سکتی، خود زبان والوں کوبھی اس حوالے سے اپنا فریضہ ادا کرنا چاہئے۔

اردو اپنی لطافت اور شیرینی کی وجہ سے لوگوں کو کر رہی ہے مائل: گورنر بہار

عارف محمد خان نے ہندوستان کی ثقافتی طاقت ورنگارنگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی انفرادیت کا اعتراف آج پوری دنیا میں کیا جا رہا ہے اورعالمی لیڈران بھی اس کوتسلیم کرتے ہیں، وہ یہ مانتے ہیں کہ مغرب ہندوستان کوہرا نہیں سکتا کیونکہ ہندوستان کی جڑوں میں روحانیت کی قدریں پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بدلتے ہوئے دورکے لیے اپنے آپ کوتیارکرنے کی ضرورت ہے، تقلید اورتخلیق ایک دوسرے کی ضد ہیں، بغیرتخلیق کے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ میرا کامل یقین ہے کہ اردوکبھی نہیں مرے گی، اس لیے نہیں کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے بلکہ اس لیے کہ یہ زبان آج کی نوجوان نسل کے دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے۔ اردواپنی ذاتی لطافت اورشیرینی کی وجہ سے لوگوں کواپنی طرف مائل کررہی ہے اوریہی اس کی بقا کی ضمانت ہے۔

وکست بھارت کی تعمیرمیں اردو زبان کو ادا کرنا ہوگا اہم کردار

قبل ازاں قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکست بھارت ایک اجتماعی خواب ہے جسے شرمندۂ تعبیرکرنے میں ملک کے تمام طبقات کوحصہ لینا ہے۔ اس خواب کوحقیقت سے بدلنے میں ہندوستانی زبانوں کا بھی غیرمعمولی کردارہوگا، جن میں اردوزبان خاص طورپرقابل ذکرہے کیونکہ اس زبان نے ہمیشہ ملکی تقاضوں کی تکمیل کی ہے اورقومی ہم آہنگی و یکجہتی کوفروغ دینے میں سرگرم رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے فکری وثقافتی تانے بانے کے فروغ میں اردونے ہمیشہ ایک مستحکم رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردوادیبوں نے ہمیشہ قوم کی رہنمائی کی ہے، مگراب بزمِ جہاں کا اندازبدل رہا ہے اس لیے ہمیں اپنے ادب میں بھی بدلاؤ لانا ہوگا۔ ڈاکٹرشمس اقبال نے کہا کہ ادب کومعاصرعہد کے معاملات و مسائل کی ترجمانی بھی کرنی چاہیے، ہمیں مستقبل پسندانہ سوچ اپنانا ہوگا اوردوسری زبانوں کے علوم وفنون کوبھی اردوکا حصہ بنانا ہوگا، یہ اقدامات ہی وکست بھارت کی تعمیرمیں ہماری زبان کے کردارکومعنویت بخشیں گے۔

اردو سمیت تمام زبانوں کا تحفظ کرنا ضروری: پروفیسرفیضان مصطفیٰ

مہمان اعزازی پروفیسرفیضان مصطفیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکست بھارت میں زبانوں کا تحفظ اوران کی بقا ایک اہم مسئلہ ہوگا، اس لیے ہمیں اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ زبانوں کودرپیش خطرات کوسمجھنے اوران کی حفاظت کے تعلق سے نہایت مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کئی کلاسیکی اوراہم ہندوستانی زبانیں نہایت سنگین خطرات سے دوچارہیں، اس ذیل میں اردوزبان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا نہایت ضروری ہے۔ دستورہند کے آرٹیکل 29 میں کسی بھی سماجی طبقے کواپنی زبان اور تہذیب کے تحفظ کا حق حاصل ہے اوراس کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی زبان کے تحفظ وفروغ کے لیے کلیتاً آزاد ہیں، بلکہ اس کے لیے احتجاج بھی کرسکتے ہیں ۔ پروفیسرفیضان مصطفی نے کہا کہ اگرہندوستان کووکست بھارت بننا ہے توساری زبانوں کا تحفظ ضروری ہے، جن میں اردوبھی شامل ہے۔ انھوں نے امید ظاہرکی کہ وکست بھارت میں کوئی بھی زبان نہیں مرے گی اورجوزبانیں مرگئی ہیں، انھیں بھی زندگیِ نوملے گی۔

اردو کا ماضی تابناک رہا، مستقبل بھی روشن ہوگا: کامنا پرساد

پروگرام کی مہمان اعزازی کامنا پرساد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردوکا ماضی تابناک رہا ہے اورمستقبل بھی روشن ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اردوکی ادبی وثقافتی روایتیں ہمہ گیرترقی کی داعی ہیں، یہ زبان گنگا وجمنا کوباہم آمیزکرتی اوردیروحرم کے فاصلوں کومٹاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی ہم سفری کے لیے بھی اردواپنا رخت سفرباندھ چکی ہے اوربھارت کو وکست کرنے میں اس زبان کا اہم رول ہوگا، کیوں کہ یہ زبان نئے ذہنوں کی نمایندگی کرتی ہے اوراس کا دامن ہندوستان کی درجنوں زبانوں کے ساتھ دنیا بھرکی زبانوں کے الفاظ سے مالامال ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان میں اردوکی بقا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری ثقافت، سماج ، زندگی اور ہمارے وجود کے تمام پہلوؤں سے مربوط ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ زبان ہندوستان کے ڈی این اے میں شامل ہے، جب تک دنیا میں عشق باقی ہے، عشق کی خواہش باقی ہے، مے باقی ہے، ماہتاب باقی ہے، تب تک اردوزبان باقی رہے گی۔

اردو کمیونٹی کے مسائل وحالات میں تبدیلی ضروری: سید محمد اشرف

مہمان ذی وقارمعروف فکشن نگارسید محمد اشرف نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اردوکواگلے پچیس سالوں میں مثبت، معنی خیزاورکارگرکرداراداکرنا چاہیے اوراس کے لیے اردوکمیونٹی کے مسائل وحالات میں تبدیلی اوربہتری آنا ضروری ہے، کیوں کہ زبانوں کے فروغ میں معاشی وسماجی بہتری وخوشحالی کا اہم کردارہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حال کے تئیں مایوسی کفرہے، مگرحقیقت پسندی سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اردوکی بقا کے لیے تعلیمی وتدریسی سطح پراس کی مؤثرتنفیذ کوضروری قراردیا۔ انھوں نے کہا کہ پرائمری وسکینڈری سطح پرخصوصاً اس کا چراغ جلانے کی ضرورت ہے، تبھی وکست بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیرکرنے میں ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹرشگفتہ یاسمین نے انجام دیئے اورقومی ترانے کے ساتھ اس کا اختتام عمل میں آیا۔ افتتاحی اجلاس کے بعد ‘شامِ افسانہ’ کا اہتمام کیا گیا، جس کی صدارت پروفیسراعجازعلی ارشد نے اورنظامت پروفیسرصفدرامام قادری نے کی اور سید محمد اشرف، ذکیہ مشہدی اورپروفیسرغضنفرنے اپنے افسانے پیش کئے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read