Bharat Express DD Free Dish

Urdu language

تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ سماجیات کی صدر پروفیسر عذرا عابدی کا خیرمقدم کیا اور موضوع کی اہمیت پرقدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر پروفیسر عذرا عابدی نے توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے ترقی پسند اردو افسانے کی روایت اور اس میں خواتین افسانہ نگاروں کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا۔

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت کی زبان قراردیا، سید شاہنوازحسین، شاہد صدیقی، پروفیسرشاہد اختر، عمران مسعود، آلوک وتس اورڈاکٹرشمس اقبال نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف سیشن کا انعقاد کیا گیا اور آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمّیلن کا اہتمام کیا گیا۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی وپارلیمانی امور کرن رجیجو، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور سید شاہنواز حسین سمیت کئی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کا کلیدی خطاب ہوگا۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کاربھی بہت اہمیت رکھتا ہے اورجب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے توان کے بہترطریقہ کارکوبھی اپنائیں گے۔

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردو زبان وادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا وادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اور مشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرزاپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔

تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئرسوسائٹی کے صدرڈاکٹرایس فاروق نے کی۔ انہوں نے مصنف ڈاکٹرمحمد شمیم اخترکی کاوش کوسراہتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن اوراردو زبان وادب کے باہمی تعلق کودستاویزی شکل دینا ایک اہم علمی کام ہے۔ ان کے مطابق کتاب اردو ادب کی ترویج میں ذرائع ابلاغ کے کردار کو سمجھنے کے لیے مفید مواد فراہم کرتی ہے۔

صدارتی خطاب میں راجہ بھائی نے کہا کہ جس آزاد فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا عطیہ ہے۔ اب مادرِ وطن کی ترقی اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے خون کی ایک ایک بوند وطن کے لیے وقف ہے۔ ملک کی ترقی ہی ہماری ترقی ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرمحمد میاں نے کہا کہ اردویونیورسٹی اپنے طلبا کے لئے معیاری کتابیں تیار کی ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی مزید کتابیں تیار کی جائیں گی۔ اس یونیورسٹی  نے اردومیڈیم طلبا بالخصوص مدارس کےطلبا کے لئے  پروفیشنل کورسیز کا موقع فراہم کرکے ان کے لیے ایک بہتر مستقبل ہموار کرنے میں ایک اہم کردارادا کر رہی ہے۔

تقریب کے اختتام پرسکریٹری اردواکادمی، دہلی لیکھ راج اوراکاؤنٹ آفیسرانل کمار کامرہ نے سمرکیمپ میں شرکت کرنے والے طلبا میں اسناد (سرٹیفکیٹس) تقسیم کیے۔ اس موقع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے سکریٹری اکادمی نے سمرکیمپ کے کامیاب انعقاد پر حکومتِ دہلی، محکمۂ فن، ثقافت والسنہ اور وزیر برائے فن، ثقافت والسنہ کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کا شکریہ ادا کیا۔

سمر کیمپ 2026 میں تقریباً 230 طلبا روزانہ بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کررہے ہیں۔ طلبا کی تعلیمی، ذہنی اورتخلیقی صلاحیتوں کوبہتراندازمیں پروان چڑھانے کے لیے انھیں دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سینئر زمرہ (نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک) اورجونیئر زمرہ (چوتھی جماعت سے آٹھویں جماعت تک)۔ سمرکیمپ میں طلبا کے لئے تعلیمی، تربیتی، اخلاقی اور تخلیقی سرگرمیوں کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں اعتماد، نظم وضبط اور عملی مہارت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔