Bharat Express DD Free Dish

Urdu language

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوٸے کہا کہ اس پروگرام کوشارب ردولوی نے 10 برس پہلے اپنی اہلیہ کی یاد میں شروع کیا تھا آج وہ نہیں ہیں پھربھی پروگرام ہرسال اسی وقاراورشان کے ساتھ ہورہا ہے، اس کے لیے ٹرسٹ کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیں اوروہ سامعین وناظرین بھی، جن کی بھرپورموجودگی یہاں رہتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شارب ردولوی کی محبت دلوں میں آج بھی قائم ہے۔

تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ سماجیات کی صدر پروفیسر عذرا عابدی کا خیرمقدم کیا اور موضوع کی اہمیت پرقدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر پروفیسر عذرا عابدی نے توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے ترقی پسند اردو افسانے کی روایت اور اس میں خواتین افسانہ نگاروں کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا۔

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت کی زبان قراردیا، سید شاہنوازحسین، شاہد صدیقی، پروفیسرشاہد اختر، عمران مسعود، آلوک وتس اورڈاکٹرشمس اقبال نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف سیشن کا انعقاد کیا گیا اور آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمّیلن کا اہتمام کیا گیا۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی وپارلیمانی امور کرن رجیجو، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور سید شاہنواز حسین سمیت کئی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کا کلیدی خطاب ہوگا۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کاربھی بہت اہمیت رکھتا ہے اورجب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے توان کے بہترطریقہ کارکوبھی اپنائیں گے۔

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردو زبان وادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا وادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اور مشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرزاپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔

تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئرسوسائٹی کے صدرڈاکٹرایس فاروق نے کی۔ انہوں نے مصنف ڈاکٹرمحمد شمیم اخترکی کاوش کوسراہتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن اوراردو زبان وادب کے باہمی تعلق کودستاویزی شکل دینا ایک اہم علمی کام ہے۔ ان کے مطابق کتاب اردو ادب کی ترویج میں ذرائع ابلاغ کے کردار کو سمجھنے کے لیے مفید مواد فراہم کرتی ہے۔

صدارتی خطاب میں راجہ بھائی نے کہا کہ جس آزاد فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا عطیہ ہے۔ اب مادرِ وطن کی ترقی اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے خون کی ایک ایک بوند وطن کے لیے وقف ہے۔ ملک کی ترقی ہی ہماری ترقی ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرمحمد میاں نے کہا کہ اردویونیورسٹی اپنے طلبا کے لئے معیاری کتابیں تیار کی ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی مزید کتابیں تیار کی جائیں گی۔ اس یونیورسٹی  نے اردومیڈیم طلبا بالخصوص مدارس کےطلبا کے لئے  پروفیشنل کورسیز کا موقع فراہم کرکے ان کے لیے ایک بہتر مستقبل ہموار کرنے میں ایک اہم کردارادا کر رہی ہے۔

تقریب کے اختتام پرسکریٹری اردواکادمی، دہلی لیکھ راج اوراکاؤنٹ آفیسرانل کمار کامرہ نے سمرکیمپ میں شرکت کرنے والے طلبا میں اسناد (سرٹیفکیٹس) تقسیم کیے۔ اس موقع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے سکریٹری اکادمی نے سمرکیمپ کے کامیاب انعقاد پر حکومتِ دہلی، محکمۂ فن، ثقافت والسنہ اور وزیر برائے فن، ثقافت والسنہ کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کا شکریہ ادا کیا۔