Bharat Express DD Free Dish

Urdu language

سمر کیمپ 2026 میں تقریباً 230 طلبا روزانہ بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کررہے ہیں۔ طلبا کی تعلیمی، ذہنی اورتخلیقی صلاحیتوں کوبہتراندازمیں پروان چڑھانے کے لیے انھیں دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سینئر زمرہ (نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک) اورجونیئر زمرہ (چوتھی جماعت سے آٹھویں جماعت تک)۔ سمرکیمپ میں طلبا کے لئے تعلیمی، تربیتی، اخلاقی اور تخلیقی سرگرمیوں کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں اعتماد، نظم وضبط اور عملی مہارت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تقریب کی صدارت انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کی. جبکہ آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ مہمان خصوصی تھے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے سابق صدرسراج الدین قریشی، پروفیسرخالد محمود نے مہمان اعزازی کے طورپرشرکت کی۔ اس موقع پر احمد جاوید، معصوم مرادآبادی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر عامر فہیم اور ابو ہریرہ نے اظہارِخیال کیا۔ نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیئے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر ابوبکر رضوی وغیرہ نے اردو زبان وادب کے معروف نقاد ’کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

قومی راجدھانی دہلی کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ اب دیگر لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ تیسری زبان کے طور پر اردو زبان کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ محکمہ تعلیم دہلی کی جانب سے طلبہ کو مختلف زبانیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں اردو بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی لسانی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں مختلف ثقافتوں سے جوڑنا ہے۔

ہریدوار ضلع کے منگلور میں واقع ہیونز پیلس میں جشنِ امام حسینؑ گولڈن جوبلی سمینار کا دوسرا سیشن نہایت وقار، فکری گہرائی اور روحانی ماحول میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر ملک کے ممتاز قومی مفکرین، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور مذہبی لیڈروں نے واقعۂ کربلا کے آفاقی پیغام—سچ، انصاف، قربانی، اتحاد اور انسانیت—پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے موجودہ دور کے ہندوستان کے لیے ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا

اردواکادمی دہلی کا یہ جشن گزشتہ 15 برسوں سے مسلسل کامیابی کے ساتھ منعقد ہورہا ہے اوراپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ اس میں اسکولی بچوں، کالج کے طلبہ، یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب سے وابستہ فنکاراورملک کے معروف گلوکاربھی شریک ہوتے ہیں۔

اسی سلسلے میں دہلی اردو اکادمی کی طرف کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں  دہلی کے 19 اسکولوں کے طلبا وطالبات نے شرکت کی۔ اس میں جامعہ مڈل اسکول اور نیوہرائزن پبلک اسکول کے طلبا نے اول پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ پانچ ٹیمیں دوسری پوزیشن پر رہیں اور دو ٹیمیں تیسری پوزیشن پر رہیں۔ اس طرح سے 9 ٹیمیں فاتح قرارپائیں۔

اردو زبان نہ کسی ایک مذہب کی ملکیت ہے، نہ کسی خاص عقیدے سے جُڑی ہوئی۔ یہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے جس نے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کے جذبات، خیالات اور خوابوں کو الفاظ دیے ہیں۔

اردواکادمی، دہلی کے زیراہتمام آج اردوکوئزمقابلہ برائے سکنڈری وسینئرسکنڈری زمرہ ( نویں تابارہویںجماعت) کا انعقاد ہوا، جس میں 16 اسکولوں کے 64 طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی انعامات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

’اردوزبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظرمیں‘ کے عنوان سے قومی اردوکونسل کے سہ روزہ سمینارکا افتتاح کیا گیا۔ ڈائریکٹر شمس اقبال نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیرمیں تمام ہندوستانی زبانوں کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔