Bharat Express DD Free Dish

National Council for Promotion of Urdu Language

غالب انسٹی ٹیوٹ اورقومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سیمینار جاری ہے۔ اس سیمینار میں بڑی تعداد میں نوجوان ریسرچ اسکالرس شرکت کررہے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوان اساتذہ کو صدارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کاربھی بہت اہمیت رکھتا ہے اورجب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے توان کے بہترطریقہ کارکوبھی اپنائیں گے۔

 قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیراہتمام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں "دارا شکوہ اور ہندوستان کی مشترکہ قدریں" کے عنوان سے پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں  بطورمہمان خصوصی اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس، نئی دہلی کے صدر رام بہادر رائے اور بطورمہمان اعزازی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے رجسٹرار پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے شرکت کی۔ 

خواجہ افتخار احمد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردومسلمان کا نام نہیں، ہندوستان کا نام ہے۔ پدم شری پروفیسرسید عین الحسن نے کہا کہ اردو کوکم آنکنے کی ضرورت نہیں، اس نے مختلف علوم وفنون کواپنے اندرجذب کرلیا ہے۔ پروفیسر قدوس جاوید نے کہا کہ لفظ محض لفظ نہیں بلکہ ایک تصویر، آوازاورطویل تاریخ وتہذیب کا نمائندہ ہوتا ہے۔

قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام عالمی اردوکانفرنس بہ عنوان ’’کثیرلسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب‘‘ کے موضوع پرانڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں تین سیشن منعقد کئے گئے جبکہ دوسرے دن کا آخری سیشن شام غزل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں پیش کیا گیا۔

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے شال پوشی ومومنٹوکے ذریعہ ان تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اوراستقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں بولی جانے والی بے شمارزبانوں میں اردوزبان کئی  اعتبارسے منفرد ہے۔ اردوکا کوئی مخصوص علاقہ نہیں، لیکن اردو ہرعلاقے میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ 2047 میں جب ملک وکست بھارت کا جشن منا رہا ہوگا، اس وقت ملک کی زبانوں کا کرداربھی قابل دید ہوگا۔ اس لئے اردوزبان کی ترقی کے لیے اسے نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور نئے تقاضوں کے مطابق بنانا ضروری ہے۔

ڈاکٹرشمس اقبال نے قومی اردو کونسل کے تحت منعقد ہونے والے عالمی اردوکانفرنس کی تفصیلات پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کی جانب سے ماضی میں بھی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ ایک وقفہ کے بعد گزشتہ برس ’’وکست بھارت کا وژن اوراردوزبان کا مشن‘‘ کے عنوان سے اس اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جسے اردو حلقے کی طرف سے خوب پذیرائی ملی تھی۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرس اور محبان اردو سے خاص اپیل کی ہے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زیراہتمام علی گڑھ میں منعقدہ 9 روزہ اردو کتاب میلہ اختتام پذیر ہوگیا۔ قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کلماتِ تشکرادا کرتے ہوئے کہا کہ کتاب دوستی نوجوان نسل کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنائے گی اور ملک کووکست بھارت 2047@ کی جانب لے جانے میں خاصی معاون ثابت ہوگی۔

’اردوزبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظرمیں‘ کے عنوان سے قومی اردوکونسل کے سہ روزہ سمینارکا افتتاح کیا گیا۔ ڈائریکٹر شمس اقبال نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیرمیں تمام ہندوستانی زبانوں کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔

این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے بتایا کہ انہوں نے اردو زبان کوفروغ دینے کے لئے غیراردوداں طبقے تک پہنچنے کے لئے کچھ خاکہ تیارکیا ہے، جسے نافذ کرنے کا فیصلہ اردوکے فروغ کے لئے کافی اہم ہوسکتا ہے۔