کثیر لسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب کے عنوان سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے عالمی اردوکانفرنس کے تیسرے دن تین اہم تکنیکی سیشنزاورمشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ ان تینوں سیشنز میں اردو زبان کے دیگر زبانوں سے لسانی، ثقافتی، ادبی اور تہذیبی انسلاکات پرمختلف دانشوروں کی جانب سے اظہارخیال کیا گیا۔ صدور اجلاس نے عالمی اردو کانفرنس کے اس موضوع کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے قومی اردو کونسل اور اس کے ڈائریکٹرکومبارکباد پیش کی اور اسے اردو کی ترویج و اشاعت کا ایک سنگ میل قرار دیا۔ پہلے سیشن میں ڈاکٹرخواجہ افتخاراحمد بطورصدر، پروفیسرشافع قدوائی اورپروفیسرروی ٹیک چندانی بطورمہمانان اعزازی شریک ہوئے۔ جبکہ پروفیسرشمبھوناتھ تیواری، پروفیسرانتخاب حمید، خاورنقیب، شبیراحمد اوراسما امروزنے مقالات پیش کیے۔ اس سیشن کی نظامت نہاں رباب نے کی۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ افتخاراحمد نے کہا کہ ہندوستان جڑ کا نام ہے اوراس کی بہت سی شاخیں ہیں۔ اس کی ہرشاخ کو ہرا رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ نیزاردوکوعام فہم اوردوررس بنانے کے لیے آسان الفاظ کا استعمال ضروری ہے۔ اردومسلمان کا نام نہیں، ہندوستان کا نام ہے۔ اس طرح کی کانفرنس ملک میں ہر طرح کی ہم آہنگی کا باعث ہوتی ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی میں زبان بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس اعتبار سے بھی یہ کانفرنس بے حد خاص ہے۔
سندھی اوراردو زبان کے درمیان لسانی روابط: پروفیسر روی ٹیک چندانی
پہلے مہمان اعزازی پروفیسر روی ٹیک چندانی نے سندھی واردوکے لسانی روابط پراظہارخیال کیا اورزبانوں کے فروغ پانے کے اصول و ضوابط پر بھی روشنی ڈالی۔ دوسرے مہمان اعزازی پروفیسر شافع قدوائی نے کانفرنس کے عنوان کے مختلف پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا اورملٹی لنگولزم کی افادیت اوراس کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے پاننی، آنند وردھن اورابھینوگپت کا ذکرکرتے ہوئے اردوزبان وادب پران کے افکارونظریات کے اثرات کی بھی نشاندھی کی۔ اسما امروز نے تیلگواوراردوزبان کے لسانی روابط پراپنا مقالہ پیش کیا اورمثالوں کے ذریعہ ایسے کئی الفاظ کی نشان دہی کی جو دونوں زبانوں میں معمولی تبدیلی کے ساتھ رائج ہیں۔ دوسرے مقالہ نگارخاورنقیب نے انڈین نالج سسٹم کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا اورمختلف تہذیبوں سے جوڑنے میں اردو تراجم کو اہم قراردیا۔ شبیراحمد نے قومی وراثت وثقافت اردوتراجم کے آئینے میں کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اورکئی اہم نکات کی جانب توجہ دلائی۔ پروفیسرانتخاب حمید نے زبان کی معاملاتی منطق اورنتائج کے موضوع پراپنا مقالہ پیش کیا اورکانفرنس کے موضوعات کوقومی تعلیمی پالیسی 2020 کے عین مطابق قراردیا۔ پروفیسرشمبھوناتھ تیواری نے اردو میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقالہ پیش کیا اور مختلف تہذیبوں کی آمیزش کو ہندوستان کی سب سے بڑی خوبصورتی بتایا۔

دوسرے سیشن کی صدارت پروفیسرعین الحسن نے کی
دوسرےسیشن میں بطورصدرپروفیسرسید عین الحسن اورمہمان اعزازی کی حیثیت سے ڈاکٹر جمیل اختر شریک ہوئے۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسر مشتاق عالم قادری، پروفیسرجلال الحفناوی، ڈاکٹر تاشیانہ شمتلی، ڈاکٹرایلن ڈسولیرلیس اورڈاکٹرسفینہ بیگم کے نام شامل ہیں۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹرنثاراحمد خان نے انجام دی۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسرعین الحسن نے تمام مقالہ نگاروں کے مقالات پرروشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اردوکوکم آنکنے کی ضرورت نہیں، اس نے مختلف علوم و فنون کواپنے اندر جذب کر لیا ہے۔ انھون نے مختلف زبانوں کے لسانی روابط سے اردو کے فروغ کی جانب بھی اشارہ کیا۔ مہمان اعزازی ڈاکٹرجمیل اخترنے لسانی روابط کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نے دوسری زبانوں پرجواثرات مرتب کیے ان پر گفتگوہونی ضروری ہے۔ ڈاکٹر سفینہ بیگم نے رویندرناتھ ٹیگورکی کہانیوں کے دو تراجم کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ ماریشس سے تشریف لائیں ڈاکٹر تاشیانہ شمتلی نے اردو اور ماریشی زبان کے لسانی روابط سے متعلق خیالات کا اظہار کیا اور ان دونوں کے مابین ہم آہنگی کے پہلو تلاش کیے۔ پروفیسرمشتاق عالم قادری نے گوجری غزل پر اردو زبان کے اثرات کے عنوان سے مقالہ پیش کرتے ہوئے اس کی متعدد مثالیں پیش کیں۔ پروفیسر جلال الحفناوی(مصر) کے مقالے کا موضوع اردو اورعربی زبان کے لسانی روابط سے متعلق رہا۔ انھوں نے اردو میں رائج عربی کے مرکبات اور محاورات پر بھی اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر ایلن ڈسولیرلیس (فرانس) نے ” تصوف اورتصور، ہسپانوی اوراردو” کے موضوع پراظہارخیال کیا اورکچھ مترجم نمونے بھی پیش کیے۔

تیسرے سیشن کی صدارت پروفیسرقدوس جاوید نے کی
تیسرے سیشن کی صدارت پروفیسرقدوس جاوید نے کی اورمہمانان اعزازی کے طورپرپروفیسراعجازعلی ارشد اورپروفیسرارتضیٰ کریم شریک ہوئے۔ پروفیسر ہیننز ورنر، اور جناب محمد سیفی عمری نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس سیشن میں نظامت کے فرائض ڈاکٹراحسن ایوبی نے انجام دیئے۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسرقدوس جاوید نے کہا کہ ہندوستان محض جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ کثیرالجہات تہذیبوں کا نام ہے۔ ہماری مشترکہ تہذیب کی جڑیں ویدک کال میں پیوست ہیں۔ آپ نے کہا کہ اردو کی شناخت اس کی علامات، استعارات اور کنایوں سے قائم ہوتی ہے۔ لفظ محض لفظ نہیں بلکہ ایک تصویر، آوازاورطویل تاریخ و تہذیب کا نمائندہ ہوتا ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسرارتضیٰ کریم نے کہا کہ دیگرزبانوں کے جاننے والوں کوبھی اردو زبان وتہذیب کی نمائندگی کے متعلق غورکرنا چاہئے، اس سے زبان کے فروغ کا دوطرفہ عمل سامنے آئے گا۔ دوسرے مہمان اعزازی پروفیسراعجازعلی ارشد نے کہا کہ دیگرزبانوں کے الفاظ اوراثرات قبول کرنا کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔ انھوں ںے اردو زبان کولسانی جمہوریت کا بہترین نمونہ قراردیا۔ مقالہ نگاروں میں محمد سیفی عمری نے اردواورتمل زبان کا ادبی ارتباط اوراشتراک کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اوران کے مابین صرفی اورہیئتی مطابقت پرروشنی ڈالی۔ پروفیسرہینز ورنر (سویڈن) نے کثیر لسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے مختلف زبانوں کے آپسی میل جول اور اثرات کی نشاندہی کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
