اردو ہندوستان کی زندہ زبان ہے اورملک کی ترقی میں اہم کردارادا کررہی ہے، عالمی اردوکانفرنس کے اختتامی سیشن سے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال کا خطاب
خواجہ افتخار احمد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردومسلمان کا نام نہیں، ہندوستان کا نام ہے۔ پدم شری پروفیسرسید عین الحسن نے کہا کہ اردو کوکم آنکنے کی ضرورت نہیں، اس نے مختلف علوم وفنون کواپنے اندرجذب کرلیا ہے۔ پروفیسر قدوس جاوید نے کہا کہ لفظ محض لفظ نہیں بلکہ ایک تصویر، آوازاورطویل تاریخ وتہذیب کا نمائندہ ہوتا ہے۔
اردو اور اس کے مصنفین نے دیگر زبانوں اور تہذیبوں کو بھی متاثر کیا، قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن تین اہم تکنیکی سیشن میں مقررین کا اظہارخیال
قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام عالمی اردوکانفرنس بہ عنوان ’’کثیرلسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب‘‘ کے موضوع پرانڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں تین سیشن منعقد کئے گئے جبکہ دوسرے دن کا آخری سیشن شام غزل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں پیش کیا گیا۔
Urdu Conference: وکست بھارت کی تعمیر کے لیے تمام ہندوستانی زبانوں کا ایک دوسرے سے قریب آنا ضروری : ڈاکٹر شمس اقبال
اختتامی تقریب کے مہمان اعزازی پروفیسر غضنفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی اور افتتاحی پروگرام سے لے کر آخری سیشن تک اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے نہایت قیمتی نکات سامنے آئے۔




