Urdu Conclave 2026

World Urdu Conference 2026

خواجہ افتخار احمد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردومسلمان کا نام نہیں، ہندوستان کا نام ہے۔ پدم شری پروفیسرسید عین الحسن نے کہا کہ اردو کوکم آنکنے کی ضرورت نہیں، اس نے مختلف علوم وفنون کواپنے اندرجذب کرلیا ہے۔ پروفیسر قدوس جاوید نے کہا کہ لفظ محض لفظ نہیں بلکہ ایک تصویر، آوازاورطویل تاریخ وتہذیب کا نمائندہ ہوتا ہے۔

قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام عالمی اردوکانفرنس بہ عنوان ’’کثیرلسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب‘‘ کے موضوع پرانڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں تین سیشن منعقد کئے گئے جبکہ دوسرے دن کا آخری سیشن شام غزل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں پیش کیا گیا۔

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے شال پوشی ومومنٹوکے ذریعہ ان تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اوراستقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں بولی جانے والی بے شمارزبانوں میں اردوزبان کئی  اعتبارسے منفرد ہے۔ اردوکا کوئی مخصوص علاقہ نہیں، لیکن اردو ہرعلاقے میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ 2047 میں جب ملک وکست بھارت کا جشن منا رہا ہوگا، اس وقت ملک کی زبانوں کا کرداربھی قابل دید ہوگا۔ اس لئے اردوزبان کی ترقی کے لیے اسے نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور نئے تقاضوں کے مطابق بنانا ضروری ہے۔

ڈاکٹرشمس اقبال نے قومی اردو کونسل کے تحت منعقد ہونے والے عالمی اردوکانفرنس کی تفصیلات پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کی جانب سے ماضی میں بھی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ ایک وقفہ کے بعد گزشتہ برس ’’وکست بھارت کا وژن اوراردوزبان کا مشن‘‘ کے عنوان سے اس اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جسے اردو حلقے کی طرف سے خوب پذیرائی ملی تھی۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرس اور محبان اردو سے خاص اپیل کی ہے۔

6تا 8 فروری 2026 کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی مجوزہ عالمی اردو کانفرنس کے تعلق سے ا یڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ۔