Bharat Express DD Free Dish

مسلسل مطالعہ اور لکھنے سے ہی علمی نثرپر قدرت ممکن، غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار کی افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر شمس بدایونی کا خطاب

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کاربھی بہت اہمیت رکھتا ہے اورجب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے توان کے بہترطریقہ کارکوبھی اپنائیں گے۔

نئی دہلی: ایک تحقیق کارکی تحریرمیں ربط، تسلسل، توازن، منطقی استدلال، صحیح اورمعتبرحوالہ جات، علمی زبان اورروانیِ بیان جیسی خوبیاں مسلسل لکھتے رہنے کی مشق سے حاصل ہوتی ہیں۔ اگرتحقیق کارکولکھنے کی عادت نہیں، لکھے ہوئے کوباربارپڑھنے اورسمجھنے، اس کی نوک پلک درست کرنے، اس میں پیش کردہ حقائق ومعلومات کوجانچنے اورپرکھنے، اس میں شامل مواد پرغوروفکرکرنے کا سلیقہ نہیں تو وہ کوئی معیاری تحریرکبھی پیش نہیں کرسکے گا۔ ان خیالات کا اظہاراردوکے ممتازمحقق ڈاکٹرشمس بدایونی نے ایوان غالب، دہلی میں بین الاقوامی ریسرچ اسکالرسیمینارمیں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ میراذاتی تجربہ ہے کہ کوئی بھی معیاری تحریرایک بارمیں مکمل نہیں ہوتی، بلکہ وہ مسلسل ترمیم واصلاح کے عمل سے گزرکرہی کسی معیارکے قریب پہنچ پاتی ہے۔ طلبا کے لیے اس طرح کی تربیت بہت ضروری ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کا یہ سالانہ ریسرچ اسکالرسمیناربھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جوطلبہ کی صلاحیتوں کوپرکھنے اوران کے اعتماد کوبحال کرنے کا ایک موثرذریعہ ہے۔  سمینارکا افتتاح معروف مصنفہ اورمترجمہ ڈاکٹررخشندہ جلیل نے کیا۔

ریسرچ اسکالرسیمینارسے اردومعاشرہ تحقیقی سرگرمیوں سے ہوتا ہے واقف: ڈاکٹررخشندہ جلیل

ڈاکٹررخشندہ جلیل نے کہا بین الاقوامی ریسرچ اسکالرسمینارکا انعقاد ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے ذریعہ پورا اردومعاشرہ تحقیقی سرگرمیوں سے واقف ہوتا ہے۔ طلبا کی بھی تربیت ہوتی ہے اورانھیں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کی رفتارجیسی ہونی چاہئے ویسی نہیں ہے، لیکن پھربھی اسی ماحول میں چند طالب علم ایسے بھی ہیں، جن کی کتابیں دیکھ کرخوشی ہوتی ہے کہ آئندہ نسل میں بھی تلاش اورنئی بات کہنے کا جذبہ ابھی موجود ہے۔ اگرانھیں بہترمواقع ملیں تووہ اپنے جوہرکواوربہتراندازمیں پیش کرسکیں گے۔

ایک محقق اپنے مطالعہ پراعتماد کرے: پروفیسرسید عین الحسن

مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرسید عین الحسن نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ صدارتی تقریرمیں انہوں نے کہا ایک محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالعہ پراعتماد کرے، مرعوبیت آپ کواپنی بات کہنے سے روکتی ہے۔ ہربات کوتجزیے سے گزارنا اوربغیرتعصب ومرعوبیت کے لکھنا محقق کا فرض ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اسکالرس کویہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی طرزتحقیق کولوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے: ڈاکٹر شمس اقبال

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کاربھی بہت اہمیت رکھتا ہے اورجب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے توان کے بہترطریقہ کارکوبھی اپنائیں گے۔ معروف شاعراور انڈین آئل کارپوریشن کے جنرل منیجرآلوک اویرل نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے آج یہ دیکھ کربہت خوشی ہوئی کہ ہندستان کی تقریباً 40 یونیورسٹیزکے ریسرچ اسکالریہاں موجود ہیں اوروہ اپنا مقالہ بھی یہاں پیش کریں گے۔ اس طرح کے جلسوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہاں ایسے لوگوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے، جن کا مطالعہ کسی سمت میں بہت اچھا ہے اوروہ آپ کے لیے معاون بھی ہے۔ ایسے تعلقات ساری زندگی ساتھ چلتے ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرڈاکٹرادریس احمد نے کہا ریسرچ اسکالرسیمینارہماری پہچان ہے اورہم اسے برقراررکھنے کی پوری کوشش کریں گے، لیکن اسکالروں کوبھی چاہئے کہ وہ اسے اپنا سمینارسمجھتے ہوئے ہرممکن تعاون دیں۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ ملک کے ہرصوبے سے اردواسکالرس کو جمع کریں تاکہ ان کے درمیان علمی رابطہ پیدا ہو۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر شمس بدایونی کی نئی تحقیقی کتاب ’مطالعہ حیات جاوید کے ایک سوپچاس سال‘ کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔