Bharat Express DD Free Dish

Ghalib Institute

غالب انسٹی ٹیوٹ اورقومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سیمینار جاری ہے۔ اس سیمینار میں بڑی تعداد میں نوجوان ریسرچ اسکالرس شرکت کررہے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوان اساتذہ کو صدارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں ایک سے زیادہ زبانوں سے واقفیت بہت سے مثبت نتائج پیش کر سکتی ہے۔ کیونکہ تحقیق میں صرف مواد نہیں طریق کاربھی بہت اہمیت رکھتا ہے اورجب ہم دوسری زبانوں سے واقف ہوں گے توان کے بہترطریقہ کارکوبھی اپنائیں گے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تشکرکے دوران کہا کہ غالب تقریبات جو ہر سال دسمبر میں ہوتی ہیں، اس کے موضوعات ادبی دنیا میں نئے مباحث کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ پریم چند پردلی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا انٹرنیشنل سمینارہے۔ اس کا عنوان بھی یعنی پریم چند، ذہن،زمانہ اور آرٹ بڑی حد تک پریم چند کی تخلیقات اور زمانے سے ان کے رشتے کو ظاہرکرتا ہے۔

افتتاحی اجلاس کے بعد شام غزل (کلام غالب) کا اہتمام کیا جائے گا جس میں معروف غزل سنگرودیا شاہ غزل سرائی کریں گی۔ 27 اور28 دسمبرکوصبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک ادبی اجلاس ہوں گے، جس میں ملک و بیرون ملک کے دانشورمقالات پیش کریں گے۔ ڈاکٹر ادریس احمد نے بتایا کہ 27 دسمبرکو شام 6 بجے عالمی مشاعرے کا اہتمام کیا جائے گا، جس کی صدارت پروفیسروسیم بریلوی کریں گے اور مہمانِ خصوصی امیرمہدی (برمنگھم) اور  ایم۔ ایف۔ فاروقی ہوں گے۔

ادب سے وابستہ عمران پرتاپ گڑھی کا دل ہمیشہ فنون لطیفہ کے لیے دھڑکتا رہا ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے ایک انقلابی شاعر کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ اسی مناسبت سے بندھن کلچرل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی کے آڈیٹوریم میں ایک شاندارآل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن کا اہتمام کیا گیا۔

غالب انسٹی ٹیوٹ ایک علمی اورثقافتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے زیراہتمام مختلف ادبی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اسی ضمن میں ایک شام صحافیوں کے ساتھ منعقد کیا، جس میں دہلی کے سینئرصحافیوں سے لے کرنوجوان صحافیوں نے شرکت کی اور پروگرام کوکامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

افتتاحی اجلاس کے بعد پیئرٹ ٹروپ کی پیشکش ڈرامہ ’سرسید‘ تحریرو ہدایت ڈاکٹر محمد سعید عالم کے پیش کیا گیا، جس میں سر سید احمد خاں کا کردارتحسین منور نے بڑی خوبی سے نبھایا۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بہ اشتراک شاگردان پروفیسرابن کنول یک روزہ قومی سمینار’ابن کنول: حیات وادبی خدمات‘ کے موقع پر پروفیسرشہپر رسول، پروفیسرصغیرافراہیم، پروفیسرطارق چھتاری، پروفیسرغضنفر، ڈاکٹرمحمد اسلم پرویز، پروفیسر فاروق بخشی اور ابن کنول کے شاگردان اور فیملی کی موجودگی میں ’مزید شگفتگی‘ کا اجرا عمل میں آیا۔