کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود۔
سہارنپور: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے نوجوان اور طلبہ اس وقت مختلف مسائل سے دوچار ہیں اور راہل گاندھی نے ان کے جذبات اور ضروریات کو بخوبی سمجھا ہے۔
کوٹا سے بھی بڑا ہوگا دہرادون کا پروگرام
عمران مسعود نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ملک کے نوجوان اور طلبہ مشکلات کے دور سے گزر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے ان کی نبض کو پہچانا ہے۔ راجستھان کے کوٹا میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کو زبردست کامیابی ملی تھی، جبکہ دہرادون میں ہونے والا پروگرام اس سے بھی دس گنا بڑا ہوگا۔ عوام میں اس کو لے کر بے حد جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ راہل گاندھی کا ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام جمعہ کی شام پانچ بجے اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ ملک بھر کے طلبہ سے براہِ راست مکالمے کی مہم کا دوسرا بڑا پروگرام ہے۔ اس مہم کا آغاز اس سے قبل راجستھان کے شہر کوٹا سے کیا گیا تھا۔
’وندے ماترم‘ تنازع پر بھی اظہارِ خیال
’وندے ماترم‘ تنازع پر کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا، ’’نہ قومی نغمے کی توہین ہو رہی ہے اور نہ ہی قومی ترانے کی۔ جہاں تک احترام کا تعلق ہے تو احترام کے اپنے اپنے پیمانے ہو سکتے ہیں اور ہر شخص کے لیے اس کا انداز مختلف ہو سکتا ہے۔ لوگوں کے اپنے اپنے عقائد اور نظریات ہوتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی واضح کر چکی ہے کہ احترام ظاہر کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ نہیں ہوتا۔ احترام کا مطلب خاموشی سے کھڑا رہنا یا مکمل ادب و احترام کے ساتھ خاموشی سے سننا بھی ہو سکتا ہے۔
قومی نغمے سے متعلق قانون لانے کی تیاری
واضح رہے کہ مرکزی حکومت قومی نغمہ ’وندے ماترم‘ کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس حوالے سے ایک بل پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مجوزہ بل میں قومی نغمہ گانے سے روکنے والوں کے لیے تین سال تک قید کی سزا کی تجویز شامل ہو سکتی ہے، جس طرح قومی ترانے ’جن گن من‘ سے متعلق قانون میں سزا کی گنجائش موجود ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


